کیا حکومت خوف زدہ ہے؟ بڑے پیمانے پر حراستیں، ٹرینیں اور میٹرو سروس روکنے کے اقدامات
دہلی پولیس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی اور کچھ طلبہ تنظیموں کی جانب سے بلائے گئے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ جمعہ کو پولیس کے ایک سینئر افسر نے یہ اطلاع دی۔
پولیس نے اجازت نہ دینے کی وجوہات میں درخواست دیر سے جمع کرانے اور گزشتہ احتجاج کے دوران قواعد کی خلاف ورزی کا حوالہ دیا ہے۔ نئی دہلی رینج کی جوائنٹ کمشنر آف پولیس نوپور پرساد نے بتایا کہ احتجاج کی اجازت کے لیے درخواست 7 اکتوبر کو موصول ہوئی، یعنی احتجاج سے محض تین دن پہلے۔ حالانکہ قواعد کے مطابق ایسی درخواست کم از کم 10 دن پہلے جمع کرانا ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 نافذ کر دی گئی ہے۔ یہ دفعہ حکام کو ممکنہ بدامنی روکنے کے لیے امتناعی احکامات جاری کرنے کا اختیار دیتی ہے۔
اس تنازعے کا مرکز ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کا عمل ہے، جس کے دوران ملک بھر میں 13 کروڑ ووٹروں کے نام فہرستوں سے ہٹا دیے گئے۔ اس کے بعد نوجوانوں کی تحریک، اپوزیشن جماعتوں اور ان کی طلبہ تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”میں کل دہلی پہنچوں گا اور ہر حال میں جنتر منتر تک مارچ کروں گا۔“ انہوں نے دارالحکومت میں احتجاج کے لیے مختص مقام کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات کہی۔دپکے کا کہنا تھا کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے کے لیے حکومت کی اجازت کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ احتجاج کے لیے مقررہ مقام ہے۔انہوں نے کہا، ”اگر آپ نوجوانوں سے خوف زدہ ہیں تو پورے ملک کو بند کر دیجیے۔“وزیر اعظم نریندر مودی سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، ”اس ملک کے نوجوان اب آپ سے خوف زدہ نہیں ہیں۔“کاکروچ جنتا پارٹی نے دعویٰ کیا کہ ہفتے کے روز ہونے والے احتجاج میں شرکت کے لیے جانے والے اس کے ہزاروں حامیوں کو مختلف ریاستوں میں پولیس حراست میں لے رہی ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں 2024 میں کم از کم 96 کروڑ ووٹر ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔ ملک میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق کا عمل گزشتہ سال مشرقی ریاست بہار کے انتخابات سے پہلے شروع کیا گیا تھا اور اب زیادہ تر ریاستوں میں یہ عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔عدالت نے درخواست گزاروں سے پوچھا کہ کیا احتجاج کی اجازت مانگی گئی تھی؟جسٹس جوی مالیا باگچی نے کہا کہ انجمن بنانے اور اس کے ذریعے سرگرمیاں انجام دینے کی آزادی ایک بنیادی حق ہے۔ تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ احتجاج کے لیے اجازت لی گئی تھی یا نہیں۔ اگر اجازت نہیں لی گئی تو احتجاج غیر قانونی ہوگا۔سینئر وکیل گوپال شنکرنارائنن نے کہا کہ پ±رامن احتجاج، اجازت کے بغیر بھی، غیر قانونی نہیں ہوتا، جب تک اس کے دوران کوئی غیر قانونی کام نہ کیا جائے۔سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ دہلی آنے والی ٹرینوں کو منسوخ کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی غیر قانونی عمل کے انجام پانے سے پہلے ہی زبردستی کے اقدامات نہیں کیے جا سکتے۔
سینئر وکیل نیتیا راکرشنن نے سوال اٹھایا کہ کیا پولیس کے لیے یہ قانونی ہے کہ وہ لوگوں کے گھروں اور پیئنگ گیسٹ رہائش گاہوں پر جا کر انہیں احتجاج میں شرکت نہ کرنے کی تنبیہ کرے؟سینئر وکیل ورندا گروور نے کہا کہ پ±رامن احتجاج کرنا لوگوں کا حق ہے۔ جسٹس باگچی نے کہا کہ احتجاج کی اجازت مسترد کر دی گئی ہے۔سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ یہ اقدامات کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں سے کہا کہ وہ دوپہر 2 بجے واپس آکر یہ تفصیلات پیش کریں کہ آیا انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر 10 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج کے لیے اجازت طلب کی تھی یا نہیں۔
سی پی ایم کے جنرل سکریٹری ایم اے بے بی کی جانب سے دائر درخواست کا بھی سپریم کورٹ میں ذکر کیا گیا، جس میں قومی دارالحکومت کو مکمل طور پر بند کرنے کے معاملے کو اٹھایا گیا تھا۔سینئر وکلا کپل سبل، اے ایم سنگھوی اور دیگر کی قیادت میں سپریم کورٹ کے وکلا کے ایک گروپ نے کہا کہ 57 میٹرو اسٹیشن بند کر دیے گئے ہیں، انٹرنیٹ روک دیا گیا ہے اور لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندیاں عائد ہیں۔چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ سے کپل سبل نے سوال کیا، ”میرے ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟“اس پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، ”یہ ہمارا ملک ہے۔“دہلی پولیس کے جوائنٹ کمشنر مادھور ورما نے جمعہ کو پولیس اہلکاروں سے اپیل کی کہ وہ تحمل سے کام لیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی اصل طاقت ہجوم کو نظم و ضبط، وقار اور کم سے کم طاقت کے استعمال کے ذریعے سنبھالنے میں ہے۔
مرکزی رینج کے جوائنٹ کمشنر آف پولیس ورما نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ”طوفان کے لیے تیار رہیں۔ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ امن کی حفاظت کریں۔ کیونکہ پولیس کی حقیقی طاقت محض ہجوم کو قابو کرنے میں نہیں، بلکہ نظم و ضبط، وقار اور کم سے کم طاقت کے استعمال کے ساتھ ایسا کرنے میں ہے۔“قومی دارالحکومت میں سکیورٹی سخت کرتے ہوئے دہلی پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 10 اکتوبر کو کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شرکت نہ کریں۔دہلی پولیس نے جنتر منتر پر نیٹ (NEET) کے پرچے لیک ہونے کے خلاف جولائی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شامل ہونے والے تقریباً 2,800 ایسے افراد کی نشاندہی کی تھی، جن کا مجرمانہ پس منظر تھا۔
پولیس کے مطابق، ایف آر ایس کے ذریعے مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے کم از کم 2,873 افراد کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ان میں سے 989 افراد پر سنگین جرائم کے الزامات تھے، 101 افراد کے نام قتل کے مقدمات میں درج تھے اور کم از کم 42 افراد دو یا اس سے زیادہ قتل کے واقعات میں ملوث تھے۔دہلی پولیس کی ڈی سی پی شریشٹی پانڈے نے کہا، ”دفعہ 163 نافذ ہے، جس کا مطلب ہے کہ نہ جنتر منتر پر اور نہ ہی کسی دوسری جگہ احتجاج کی اجازت ہے۔ کسی بھی اجتماع کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا اور ہمیں ضروری قانونی کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ میں احتجاج کرنے والوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ ایسے غیر قانونی اجتماعات میں شرکت نہ کریں۔ براہِ کرم اپنی حفاظت کو بھی ترجیح دیں اور اپنے اہل خانہ کی سلامتی کا بھی خیال رکھیں۔“
غیر قانونی احتجاج میں شرکت کے خلاف لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے پانڈے نے کہا، ”احتجاج میں حصہ لینے کا ایک مناسب طریقہ ہوتا ہے۔ غیر قانونی احتجاج میں شامل ہونے سے آپ کو طویل عرصے تک قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔“دہلی بھر میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کے 20 ہزار سے زیادہ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔پولیس افسر نے کہا، ”امتناعی احکامات نافذ ہیں اور سبھی سے درخواست ہے کہ قانون کی پابندی کریں اور امن برقرار رکھیں۔“
پولیس نے مظاہرین اور عام شہریوں سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی قسم کے تشدد میں ملوث نہ ہوں اور سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں پر حملہ نہ کریں۔افسر نے کہا، ”ہم سب سے اپیل کرتے ہیں کہ امن برقرار رکھیں اور پولیس اہلکاروں پر حملہ نہ کریں۔ ایسا کوئی بھی عمل جرم ہے اور اس میں ملوث پائے جانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔“
وزارت ریلوے نے بتایا کہ ہفتے کے روز صبح 4 بجے سے دوپہر 2 بجے کے درمیان نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں پر پہنچنے والی تمام میل اور ایکسپریس ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ اس کی وجہ متعلقہ علاقوں میں سڑکوں پر شدید ٹریفک جام کا خدشہ بتایا گیا ہے۔سرکلر میں کہا گیا، ”آج، یعنی 9 اکتوبر کو دوپہر 2 بجے کے بعد اپنے ابتدائی اسٹیشن سے روانہ ہونے والی وہ تمام میل اور ایکسپریس ٹرینیں منسوخ کی جائیں، جو 10 اکتوبر کو صبح 4 بجے سے دوپہر 2 بجے کے درمیان نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں پر پہنچنے والی ہیں۔“
مغربی ریلوے نے بتایا کہ ممبئی سینٹرل سے نئی دہلی جانے والی راجدھانی ایکسپریس (12951) اور ممبئی سینٹرل سے حضرت نظام الدین جانے والی آگست کرانتی راجدھانی ایکسپریس (12953) کو پانچ گھنٹے تاخیر سے چلایا جائے گا۔ اس کے علاوہ باندرہ ٹرمینس سے حضرت نظام الدین جانے والی ایکسپریس ٹرین (12247) منسوخ کر دی گئی ہے۔مغربی ریلوے کے مطابق، ڈاکٹر امبیڈکر نگر سے نئی دہلی جانے والی ایکسپریس (20155)، اندور سے حضرت نظام الدین جانے والی ایکسپریس (09309)، اندور سے نئی دہلی جانے والی ایکسپریس (12415) اور سابرمتی سے نئی دہلی جانے والی ایکسپریس (12957) بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔
مشرقی ریلوے نے 10 اکتوبر کو نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں کے آس پاس سڑکوں پر شدید ٹریفک جام کے خدشے کا حوالہ دیتے ہوئے کولکاتا اور قومی دارالحکومت کے درمیان چلنے والی دو اہم راجدھانی ایکسپریس ٹرینوں کی منسوخی کا اعلان کیا۔مشرقی ریلوے کے ایک افسر نے بیان میں بتایا کہ ہاوڑہ سے نئی دہلی جانے والی راجدھانی ایکسپریس (12301) اور سیالدہ سے نئی دہلی جانے والی راجدھانی ایکسپریس (12313)، جو جمعہ کو اپنے سفر کا آغاز کرنے والی تھیں اور ہفتے کی صبح قومی دارالحکومت پہنچنے والی تھیں، منسوخ کر دی گئی ہیں۔
ریلوے نے دونوں اسٹیشنوں کے درمیان سڑکوں پر غیر متوقع طور پر شدید ٹریفک کو ٹرینیں منسوخ کرنے کی وجہ قرار دیا ہے۔اپوزیشن جماعتوں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ تقریباً دو دہائیوں کے بعد ووٹر فہرستوں میں کی جانے والی یہ نظرثانی بڑے پیمانے پر لوگوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کی کوشش ہے، تاکہ بی جے پی کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس عمل کو منسوخ کرکے پرانی ووٹر فہرستیں بحال کی جائیں۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ووٹر فہرستوں کے ابتدائی مسودے کی نظرثانی کے دوران نشان زد کیے گئے اندراجات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کمیشن کے مطابق، یہ عمل ابھی مکمل نہیں ہوا ہے اور جن لوگوں کے نام غلطی سے ہٹائے گئے ہیں، وہ دوبارہ اپنا اندراج کرا سکتے ہیں۔
کیا حکومت خوف زدہ ہے؟ بڑے پیمانے پر حراستیں، ٹرینیں اور میٹرو سروس روکنے کے اقدامات...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments