Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

ٹیلیگرام چینل کے ذریعے دہشت گردوں نے دوسری ریاستوں تک پھیلارکھا ہے

Admin
By Admin
Sep 30, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA METRO STATION PAR MAHILA PASSENGER AUTHORITIES NE LAGAYA JURMANA

ٹیلیگرام چینل کے ذریعے دہشت گردوں نے دوسری ریاستوں تک پھیلارکھا ہے
ٹیلیگرام چینل کے ذریعے دہشت گردوں نے دوسری ریاستوں تک پھیلارکھا ہے — September 30, 2026
ٹیلیگرام چینل کے ذریعے دہشت گردوں نے دوسری ریاستوں تک پھیلارکھا ہے
ٹیلیگرام چینل کا نام ’پ±رب آکاش‘ ہے۔ اسی ’پ±رب آکاش‘ کے ذریعے بنگلہ دیش سے لے کر آسام، بنگال حتیٰ کہ کیرالہ تک نیٹ ورک قائم کرکے بنگلہ دیش کی دہشت گرد تنظیم جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی) نے برین واشنگ شروع کیا تھا۔ اس کے ساتھ بنگلہ دیش کی ایک اور دہشت گرد تنظیم امام محمود کی کالیفہ یعنی آئی ایم کے بھی شامل ہوگئی۔ منگل کو موصولہ اطلاعات کے مطابق مرکزی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے بنگال میں کم از کم 6 مقامات پر تلاشی لی۔ دہشت گردانہ سرگرمیوں سے وابستہ ہونے کے الزام میں تحقیقاتی افسران نے چار افراد کو گرفتار کیا۔
گرفتار افراد میں جنوبی 24 پرگنہ کے بج بج سے شیخ جمعان حسین اور سہارو±ل حق پورکائت، مشرقی بردوان کے منگل کوٹ سے پیار محمد شیخ اور جنوبی 24 پرگنہ کے کیننگ علاقے سے عبدالرفیق کو گرفتار کیا گیا۔ ملک کے خلاف سازش اور جنگ کا اعلان، ملک کی خودمختاری اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش اور انسداد دہشت گردی قانون کی متعدد دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ جنوبی دیناج پور کے بنشی ہری کشکاری گاو¿ں کے نوجوان مجیب الرحمن کے گھر پر بھی تلاشی لی گئی، تاہم وہ فرار ہے۔ اس کے علاوہ ہاوڑہ کے ایک گھر میں این آئی اے نے تلاشی لے کر ایک شخص کو حراست میں لیا اور اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، ایسی اطلاعات ہیں۔
بنگلہ دیش سے جے ایم بی اور آئی ایم کے تنظیموں کے دہشت گرد آسام کے نوجوانوں کا برین واش کرتے تھے۔ اسی بنیاد پر این آئی اے نے گوہاٹی میں مقدمہ درج کیا تھا۔ 11 افراد کے خلاف چارج شیٹ بھی پیش کی گئی۔ اسی تفتیش کے سلسلے میں منگل کو بنگال کے علاوہ آسام کے دس مقامات اور کیرالہ میں بھی تلاشی کی کارروائی کی گئی۔
این آئی اے نے بتایا کہ اس ریاست میں کوئی درزی بن کر رہ رہا تھا تو کوئی امام کے طور پر شناخت ظاہر کر رہا تھا۔ لیکن اصل مقصد جے ایم بی اور آئی ایم کے کے رکن کی حیثیت سے آن لائن برین واشنگ کرنا تھا۔ این آئی اے کا الزام ہے کہ گرفتار افراد بنیادی طور پر آن لائن اور ’پ±رب آکاش‘ ٹیلیگرام چینل کے ذریعے بنگلہ دیش میں موجود جے ایم بی اور آئی ایم کے کے ہینڈلرز سے رابطے میں رہتے تھے۔ بھارت کے مختلف علاقوں میں نیٹ ورک کیسے قائم کیا جائے اور رفتہ رفتہ تخریبی نوعیت کی دہشت گردانہ سرگرمیاں کیسے انجام دی جائیں، اس سلسلے میں وہ انکرپٹڈ چیٹ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ ’پ±رب آکاش‘ کے ذریعے دہشت گرد تنظیم نے نئے نوجوانوں کی بھرتی بھی شروع کی تھی، جس میں گرفتار افراد کا اہم کردار تھا۔ گرفتار افراد ’بیت المال‘ کے طریقے سے فنڈ جمع کرنا بھی شروع کر چکے تھے۔ الزام ہے کہ چاروں کے قبضے سے موبائل فون، سم کارڈ اور متعدد جہادی دستاویزات برآمد ہوئے ہیں۔ گرفتار افراد کو کولکاتا سے گوہاٹی لے جایا جائے گا۔
این آئی اے نے بتایا کہ پیشے سے درزی شیخ جمعان حسین بج بج کے میٹھے پکر کا رہنے والا ہے۔ اس کی اپنی درزی کی دکان میں کئی سلائی مشینیں ہیں۔ لیکن اس کی توجہ صرف موبائل فون پر رہتی تھی۔ منگل کو اسے عدالت بھون میں واقع این آئی اے کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں جج نے اسے پانچ دن کے لیے این آئی اے کی حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔
ایک اور گرفتار ملزم سہارو±ل حق پورکائت ڈائمنڈ ہاربر کے رگھوناتھ پور کا رہنے والا ہے، تاہم وہ تقریباً 20 سال سے اپنی سسرال، بج بج تھانے کے چنگڑی پوتا کے شیخ پاڑہ میں رہ رہا تھا۔ این آئی اے کی کارروائی کی خبر ملنے پر وہ فرار ہوگیا تھا، لیکن این آئی اے نے اسے رگھوناتھ پور سے گرفتار کر لیا۔ اسے بج بج میں واقع اس کی سسرال لے جاکر تلاشی بھی لی گئی۔
64 سالہ پیار محمد شیخ مشرقی بردوان ضلع کے منگل کوٹ تھانے کے پالش گرام کی ایک مسجد کا امام ہے۔ گرفتاری کے بعد جس کمرے میں یہ امام رہتا تھا، وہاں تلاشی لے کر موبائل فون کے علاوہ ایک ڈائری بھی برآمد کی گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ کئی مرتبہ بنگلہ دیش آ جا چکا ہے۔ تقریباً تین سال تک مسجد میں کام کرنے کے دوران وہ چھ ماہ بنگلہ دیش میں رہا تھا۔ اس کے بعد دوبارہ واپس آیا۔ این آئی اے نے بتایا کہ دوسرے گرفتار ملزم عبدالرفیق کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

ٹیلیگرام چینل کے ذریعے دہشت گردوں نے دوسری ریاستوں تک پھیلارکھا ہے...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn