اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان متوقع مذاکرات سے قبل تہران نے یورینیم افزودگی کے اپنے حق پر قائم رہنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، تاہم امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ایرانی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ محمد اسلامی نے جمعرات کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ دشمن ایران کے افزودگی پروگرام کو محدود کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ دوسری جانب ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے دو ہفتوں کے لیے ہونے والے عارضی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر خبردار کیا ہے، جس کا اعلان پاکستان نے بدھ کی علی الصبح کیا تھا۔ محمد رضا عارف نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’ایسنا‘ کے مطابق انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کا فوری، فیصلہ کن اور تکلیف دہ جواب دیا جائے گا۔ اسی دوران ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قاليباف اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اشارہ دیا کہ ان کا ملک اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملوں کی بندش اور جارحیت کے خاتمے کے بعد عالمی قوانین اور ضوابط کے مطابق بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دے گا۔ خطیب زادہ نے وضاحت کی کہ تہران نے آبنائے ہرمز کو اس وقت بند کیا جب امریکہ کے اتحادی اسرائیل نے جنگ بندی کی دانستہ اور سنگین خلاف ورزی کی۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی وفد آج شام اسلام آباد پہنچ رہا ہے جہاں باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہفتے کے روز ہوگا۔ اس وفد میں محمد باقر قاليباف کے ہمراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہوں گے۔ دوسری جانب امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے جبکہ وفد میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ایران پر پہلے سے بڑے اور شدید حملے کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران کا ایٹمی ہتھیار حاصل کرنا یا آبنائے ہرمز کی بندش کو جاری رکھنا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی فوج اپنے بحری بیڑوں اور عسکری قوت کے ساتھ ایک حقیقی معاہدے تک پہنچنے تک ایران کے گرد موجود رہے گی۔ واضح رہے کہ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کی علی الصبح اعلان کیا تھا کہ فوری طور پر جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہو رہا ہے جو لبنان سمیت تمام محاذوں پر محیط ہوگا۔ تاہم ٹرمپ نے بعد ازاں وضاحت کی کہ اس معاہدے میں لبنان شامل نہیں ہے، جس سے اس معاملے پر کچھ ابہام پیدا ہوا۔ پاسداران انقلاب کی جانب سے کہا گیا کہ لبنان کو اس معاہدے سے مستثنیٰ رکھا گیا تو وہ بھی معاہدے کو معطل کر سکتے ہیں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی