International

تارکین وطن کے لیے خوشخبری، امریکی وفاقی جج نے امیگریشن عدالتوں کے باہر اور اندر گرفتاریوں پر پابندی لگا دی

تارکین وطن کے لیے خوشخبری، امریکی وفاقی جج نے امیگریشن عدالتوں کے باہر اور اندر گرفتاریوں پر پابندی لگا دی

کیلیفورنیا (24 جون 2026): عدالتی نظام کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کو ایک اور دھچکا پہنچا ہے، عدالت کا ایک اور مخالف فیصلہ آیا ہے جس میں وفاقی جج نے امیگریشن عدالتوں میں آئے افراد کو گرفتار کیے جانے سے روک دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ایک وفاقی جج نے منگل کے روز ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کو ملک بھر میں نافذ ہونے سے روک دیا، جس کے تحت امیگریشن عدالتوں میں گرفتاریاں کی جا رہی تھیں۔ ان گرفتاریوں نے قومی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی تھی، جس کا سلسلہ اب اس فیصلے سے رک گیا ہے۔ گزشتہ سال امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے ملک بھر میں عدالتی عمارتوں کی راہداریوں میں تارکینِ وطن کو گرفتار کرنا شروع کر دیا تھا، بعض اوقات ان کے مقدمات کی سماعت کے فوراً بعد۔ اس اقدام پر وکلا اور حقوق کے علم برداروں نے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس عمل سے امیگریشن عدالتیں منصفانہ قانونی کارروائی کے مراکز کی بجائے خوف کی جگہوں میں تبدیل ہو رہی ہیں، جب کہ ان لوگوں کو سزا دی جا رہی ہے جو قواعد و ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے عدالتوں میں پیش ہو رہے تھے۔ ا یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ انتظامیہ نے اس سے قبل وہ دیرینہ ہدایات منسوخ کر دی تھیں جن کے تحت عدالتوں کے اندر یا ان کے قریب امیگریشن قوانین کے نفاذ پر پابندیاں عائد تھیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا مؤقف تھا کہ سابقہ ہدایات امیگریشن نفاذ کے اہلکاروں کی خطرناک افراد کو گرفتار کرنے کی صلاحیت میں رکاوٹ بنتی تھیں۔ 71 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں جج پی۔ کیسی پٹس نے آئی سی ای کی پالیسی کے ’’خوف پیدا کرنے والے اثر‘‘ کو تسلیم کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ پالیسی ’’من مانی اور غیر معقول‘‘ ہے۔ جج پٹس نے کہا کہ یہ پالیسی اس حقیقت کو نظر انداز کرتی ہے کہ عدالتوں میں گرفتاریاں تارکینِ وطن میں خوف پیدا کرتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ عدالتی کارروائیوں میں شرکت سے ہچکچاتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا ’’مختصراً، آئی سی ای کی 2025 کی عدالتی گرفتاریوں کی پالیسیوں میں اس بات کی کوئی معقول وضاحت موجود نہیں، بلکہ اس کا اعتراف تک نہیں کیا گیا، کہ ادارے نے (1) امیگریشن عدالتوں میں سول نوعیت کی گرفتاریوں پر عائد سابقہ پابندیاں کیوں ختم کیں، اور (2) نئی پالیسیوں میں متعین حدود و قیود کا اطلاق امیگریشن عدالتوں پر کیوں نہیں کیا۔‘‘ کیلیفورنیا کے وفاقی جج نے آئس کی کارروائیوں کے خلاف ملک گیر حکمِ امتناع جاری کیا، اور کہا ہم امیگریشن نظام میں خوف کے ماحول کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور امیگریشن وکلا نے وفاقی عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ سان فرانسسکو کے ایک سینئر اسٹاف اٹارنی جارڈن ویلز نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا عدالت انصاف کے حصول کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ ہونی چاہیے، امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے لیے شکار گاہ نہیں۔ چاہے کوئی تارکِ وطن سان فرانسسکو، میامی، شکاگو یا نیویارک میں عدالت میں پیش ہو رہا ہو، اسے اپنی آزادی اور اپنے مقدمے کی سماعت کے حق کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments