International

صدر ٹرمپ کے مطالبے کے باوجود اتحادیوں کا آبنائے ہرمز میں بحری مشن سے انکار

صدر ٹرمپ کے مطالبے کے باوجود اتحادیوں کا آبنائے ہرمز میں بحری مشن سے انکار

جاپان، آسٹریلیا اور یورپ کے کئی اتحادی ممالک نے پیر کو واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی حفاظت کے لیے اپنے جنگی بحری جہاز بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ یہ موقف اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادی ممالک سے اس اہم سمندری راستے کو محفوظ بنانے کے لیے مشترکہ اتحاد بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ عرب نیوز کے مطابق یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، جس کے باعث سمندری تجارت متاثر ہو رہی ہے اور عالمی توانائی کی منڈیاں بھی بے چینی کا شکار ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ خلیج کے تیل پر زیادہ انحصار کرنے والے ممالک کو آبنائے ہرمز کی حفاظت میں حصہ لینا چاہیے، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اتوار کو فلوریڈا سے واشنگٹن جاتے ہوئے صدارتی طیارے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں ان ممالک سے مطالبہ کر رہا ہوں کہ وہ اپنی سرزمین کی خود حفاظت کریں کیونکہ یہ دراصل ان ہی کا علاقہ ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے انہیں اپنی توانائی ملتی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے اس بحری مہم میں شرکت کے لیے سات ممالک سے رابطہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔ البتہ ہفتے کے آخر میں سوشل میڈیا پر انہوں نے کہا تھا کہ وہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ کی شمولیت کے خواہاں ہیں۔ تاہم پیر کو کئی حکومتوں نے ممکنہ فوجی تعیناتی سے خود کو الگ کر لیا۔ جاپان کی وزیراعظم سَنائے تاکائیچی نے کہا کہ ٹوکیو نے محافظ بحری جہاز بھیجنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جاپان کے امن پسند آئین کی وجہ سے ایسے فیصلوں میں احتیاط ضروری ہے۔ جاپانی وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ’ہم نے محافظ جہاز بھیجنے کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔‘ اسی طرح آسٹریلیا نے بھی واضح کیا کہ وہ اس مشن کے لیے اپنی بحریہ فراہم نہیں کرے گا۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز کی حکومت کی کابینہ رکن کیتھرین کنگ نے آسٹریلوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کی اہمیت سب جانتے ہیں، لیکن آسٹریلیا سے اس حوالے سے نہ تو کوئی درخواست کی گئی ہے اور نہ ہی وہ اس میں حصہ لے رہا ہے۔ یورپی ممالک نے بھی خلیج میں کسی نئی بحری کارروائی میں شامل ہونے پر ہچکچاہٹ ظاہر کی ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی حفاظت نیٹو کا مشن نہیں ہو گا۔ یونان نے بھی کہا ہے کہ وہ اس آبنائے میں کسی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔ یونانی حکومت کے ترجمان پاولوس ماریناکِس کے مطابق یونان صرف یورپی یونین کے بحری مشن آپریشن اسپائیڈیز میں اپنا کردار ادا کرے گا، جو اس وقت بحیرہ احمر میں تعینات ہے۔ جرمنی کے وزیر دفاع بورِس پسٹوریئس نے کہا کہ اگر اس مشن کو آبنائے ہرمز تک بڑھانا ہو تو اس کے لیے نیا قانونی فریم ورک اور جرمن پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہو گی۔ جرمن حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ آیا امریکہ نے باقاعدہ طور پر مدد کی درخواست کی ہے یا نہیں۔ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے بھی اسی طرح کا موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کوئی ایسا موجودہ بحری مشن نظر نہیں آتا جسے آبنائے ہرمز تک بڑھایا جا سکے، اور اس بحران کا بہترین حل سفارت کاری ہے۔ چین اور دیگر ممالک پر دباؤ ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے میں مدد کرے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر چین نے تعاون نہ کیا تو وہ بیجنگ کے اپنے مجوزہ دورے میں تاخیر کر سکتے ہیں۔ امریکی صدر نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ’میرا خیال ہے چین کو بھی مدد کرنی چاہیے کیونکہ چین کو اپنے 90 فیصد تیل کی سپلائی انہی آبناؤں سے ملتی ہے۔ ہم شاید دورہ مؤخر کر دیں۔‘ چین کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ اگرچہ کچھ ایرانی جہاز اب بھی اس آبی گزرگاہ سے گزر رہے ہیں اور چند غیرملکی جہاز بھی وہاں سے نکلے ہیں، لیکن 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر بمباری شروع ہونے کے بعد زیادہ تر آئل ٹینکروں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments