اسرائیلی حکام نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے منسلک سکیورٹی حالات کا بہانہ بنا کر بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کو مسلسل 17 ویں روز بھی بند کر رکھا ہے اور نمازیوں کو وہاں پہنچنے سے روک دیا ہے۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی (وفا) نے پیر کے روز بتایا کہ "1967 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیلی قبضے نے نمازیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی اور اعتکاف سے روک دیا ہے، جس کے باعث رمضان مبارک کے آخری جمعہ کو بھی نمازی وہاں موجود نہیں تھے"۔ بیت المقدس ضلع کی بندش کے ان اقدامات کے تسلسل کے دوران نام نہاد "ہیکل سلیمانی تنظیموں" کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے خلاف اشتعال انگیز بیان بازی میں خطرناک حد تک اضافے پر خبردار کیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ "جو کچھ ہو رہا ہے اسے قابض حکام کے دعوؤں کے مطابق عارضی سکیورٹی اقدامات قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ اس سیاسی اور نظریاتی راستے کا حصہ ہے جس کا مقصد مبارک مسجد کی موجودہ مذہبی، تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے"۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
سوئٹزرلینڈ کا ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان، بلوم برگ