International

سعودی عرب میں 15 ہزار سے زائد افراد گرفتار، 10 ہزار کو ملک بدر کر دیا گیا

سعودی عرب میں 15 ہزار سے زائد افراد گرفتار، 10 ہزار کو ملک بدر کر دیا گیا

ریاض (21 جون 2026): سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر لا اور بارڈر سکورٹی کی خلاف ورزی پر 15 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی وزارت داخلہ نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک بھر میں چلائی جانے والی تفتیشی مہم کے دوران اقامہ، لیبر لا اور سرحدی سکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر 15 ہزار 288 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ سعودی وزارت داخلہ نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں 11 سے 17 جون کے درمیان متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ کی جانے والی مشترکہ کارروائیوں کے دوران عمل میں لائیں، حراست میں لیے گئے افراد میں سے 7864 کو اقامہ کی خلاف ورزی، 4576 کو سرحدی سکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی اور 2848 کو لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ مملکت میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کے دوران 1668 افراد کو گرفتار کیا گیا، ان میں سے 46 فیصد کا تعلق یمن، 53 فیصد کا ایتھوپیا اور 1 فیصد کا دیگر ممالک سے تعلق ہے۔ اس کے علاوہ، 54 افراد کو ملک سے غیر قانونی طور پر باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے حراست میں لیا گیا۔ میڈیا رپورٹس رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران حکام نے 10 ہزار 458 افراد کو ملک بدر کیا، جبکہ 15 ہزار 109 خلاف ورزی کرنے والوں کو سفری دستاویزات حاصل کرنے کیلیے ان کے سفارتی مشنز کے پاس بھیجا گیا، اور 1979 افراد کو سفر کے حتمی انتظامات مکمل کرنے کیلیے منتقل کیا گیا۔ سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس وقت 23 ہزار 587 تارکین وطن کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے، خلاف ورزی کرنے والوں کو ٹرانسپورٹ، پناہ یا ملازمت فراہم کرنے کے الزام میں 24 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ سعودی حکام نے خبردار کیا کہ جو کوئی بھی غیر قانونی داخلے میں سہولت کاری کرے گا، ایسے افراد کو ٹرانسپورٹ، ملازمت یا پناہ فراہم کرے گا، اسے 15 سال تک قید، 10 لاکھ سعودی ریال تک جرمانہ، اور جرم میں استعمال ہونے والی گاڑیوں یا جائیداد کی ضبطگی جیسی سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments