کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس نے ایران میں فوجی کارروائیوں میں کسی قسم کی شرکت نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ دمتری پیسکوف نے اخبار "انڈیا ٹوڈے" کو دیے گئے انٹرویو میں اس سوال کے جواب میں کہ کیا روس نے ایران کو فوجی مدد فراہم کی ہے، کہا: ’’ روس فوجی کارروائیوں میں حصہ نہیں لے رہا اور نہ ہی ان کا فریق ہے، یہ ہماری جنگ نہیں ہے‘‘ ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس نے ایران سے افزودہ یورینیم وصول کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن امریکیوں نے اس آپشن کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نیا نہیں ہے، روسی صدر ولادیمیر پوتین نے یہ تجویز کافی عرصہ پہلے پیش کی تھی اور اعلان کیا تھا کہ روس اپنی سرزمین پر افزودہ یورینیم وصول کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ واقعی ایک بہترین حل ہو سکتا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے امیریکہ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا اور اب یہ آپشن مذاکرات کی میز پر موجود نہیں ہے حالانکہ صدر پوتین اس اقدام کی طرف واپسی کے لیے تیار ہیں۔ دمتری پیسکوف نے واضح کیا کہ ایران اس آپشن کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے لیکن امریکہ کے اپنے مطالبات اور اپنے مفادات ہیں۔ کریملن کے ترجمان نے آخر میں کہا: لہذا، مسئلہ تمام متعلقہ فریقوں کے مطالبات اور مفادات کو یکجا کرنا ہے تاکہ ایک معاہدے تک پہنچا جا سکے اور ایک سودا طے پائے جیسا کہ واشنگٹن یہی کہتا ہے۔ واضح رہے ایران کے اندر موجود اعلیٰ افزودہ یورینیم سے متعلق کوئی بھی انجام ابھام کا شکار ہے۔ اس یورینیم کی مقدار کا تخمینہ تقریباً 440 کلوگرام لگایا گیا ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی