International

ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش نے انہیں کمزور کر دیا ہے... اسرائیلی حکام کا اقرار

ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش نے انہیں کمزور کر دیا ہے... اسرائیلی حکام کا اقرار

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے طویل عرصے تک مقامی رائے عامہ کے سامنے خود کو اس طور پر پیش کیا ہے کہ امریکی صدر وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ نمٹنے کی منفرد صلاحیت رکھتے ہیں... اور یہ کہ وہ ان کی حمایت حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ لیکن اس ہفتے ان کے درمیان ایک طوفانی ٹیلی فون کال میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو "دیوانہ" قرار دیا۔ یہ کال پہلے میڈیا میں لیک ہوئی اور بعد ازاں ٹرمپ نے خود اس کی تصدیق کی۔ اس دوران آج جمعے کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اسرائیلی حکام نے تسلیم کیا کہ یہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی اب تک کی سب سے تلخ کالوں میں سے ایک تھی۔ ایک عہدے دار نے کہا کہ اس کال کے افشا نے اس سال ہونے والے انتخابات سے قبل نیتن یاہو کو سیاسی نقصان پہنچایا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے اس صورت حال کو "مکمل سرپرستی" کے مترادف قرار دیا،اور اشارہ کیا کہ بنیامین نیتن یاہو نے اسرائیل کو واشنگٹن کی ایک تابع ریاست کی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ اسرائیلی ریسرچ سینٹر "میتفیم" کے سربراہ نمرود گورین نے رائے دی کہ "اختلافات اب کافی حد تک کھل کر سامنے آ چکے ہیں"... ماضی کے برعکس جب یہ عام طور پر بند دروازوں کے پیچھے خاموشی سے طے پا جاتے تھے۔ ادھر ایک سینئر اسرائیلی عہدے دار نے روئٹرز کو بتایا کہ نیتن یاہو نے کال کے دوران ٹرمپ پر واضح کیا کہ بیروت پر بم باری کے اسرائیلی منصوبوں میں کوئی بھی تعطل تبھی کامیاب ہو سکتا ہے جب حزب اللہ اسرائیل کے شمالی حصوں پر حملے بند کرے۔ عہدے دار نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس موقف کو قبول کرنے کے لیے تیار تھے۔

Source: scoial media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments