International

ٹرمپ کو ایران کیخلاف ممکنہ آپشنز بتادیے گئے

ٹرمپ کو ایران کیخلاف ممکنہ آپشنز بتادیے گئے

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی اقدامات کے حوالے سے نئے آپشنز پیش کردیے۔ ترک میڈیا نے امریکی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے ایران کے خلاف ممکنہ آپشنز پر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بریڈ کوپر نے سچوئیشن روم میں ہونے والی بریفنگ کے دوران ممکنہ عسکری آپشنز پیش کیے۔ اگر صدر دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان میں ایک مختصر مگر طاقتور حملوں کی لہر شامل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ اہداف میں ایران کے باقی ماندہ فوجی اثاثے، قیادت اور انفرا اسٹرکچر شامل ہو سکتے ہیں۔ بریفنگ میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کی تازہ نقل و حرکت اور تعیناتیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق تین بڑے آپشنز زیرِ غور آئے، جن میں پہلا آپشن آبنائے ہرمز کے اطراف واقع چھوٹے جزیروں پر امریکی زمینی افواج کی ممکنہ تعیناتی سے متعلق تھا، جس کا مقصد اس اہم بحری راستے کو دوبارہ کھولنا ہو سکتا ہے۔ دوسرا آپشن خصوصی دستوں کو اصفہان کے علاقے میں بھیجنے کا تھا، تاکہ ایران کے 60 فیصد افزودہ یورینیم کو ہٹایا جا سکے۔ تیسرا آپشن ایران کے خلاف شدید امریکی فضائی و عسکری حملے تھے۔ مزید برآں، امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون جدید ہتھیاروں کی تعیناتی پر بھی غور کر رہا ہے، جن میں ڈارک ایگل نامی ایک نیا ہائپر سونک میزائل شامل ہے۔ فوکس نیوز کے مطابق یہ نظام تقریباً 2 ہزار میل (3,218 کلومیٹر) دور تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ممکنہ طور پر ایران کے باقی بیلسٹک میزائل لانچرز کو ہدف بنا سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ B-1B Lancer بمبار طیارے، جو ہائپرسونک ہتھیاروں سے لیس کیے جا سکتے ہیں، خطے میں اپنی موجودگی بڑھا رہے ہیں اور بھاری مقدار میں اسلحہ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments