Akhbar-e-Mashriq

Akhbar-e-Mashriq

Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

بانکوڑہ میں ٹرین کی ٹکر سے پولیس انسپکٹر کی موت

Admin
By Admin
Oct 31, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

بانکوڑہ میں ٹرین کی ٹکر سے پولیس انسپکٹر کی موت
بانکوڑہ میں ٹرین کی ٹکر سے پولیس انسپکٹر کی موت — October 31, 2026
بانکوڑہ میں ٹرین کی ٹکر سے پولیس انسپکٹر کی موت
ملازمت کے دوران وہ کئی تنازعات میں گھرے رہے اور انہیں سزا بھی ملی تھی۔ اب بانکوڑہ پولیس کے انسپکٹر (ڈی آئی بی) جینت پال کی موت کے گرد بھی کئی سوالات اور شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔
جمعہ کی شام بانکوڑہ شہر کے کیٹھارڈانگا میں آرنیک ایکسپریس کی زد میں آنے سے جینت کی لاش بری طرح متاثر ہوگئی۔ کیا یہ محض ایک حادثہ تھا؟ یا خودکشی؟ یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے؟ تفتیش کاروں کے ذہنوں میں کئی سوالات گردش کر رہے ہیں۔
ہفتے کی دوپہر بانکوڑہ سمیلنّی میڈیکل کالج میں پوسٹ مارٹم مکمل ہوا۔ امید ہے کہ شام تک ابتدائی رپورٹ ملنے کے بعد اس موت کے معمہ پر کچھ روشنی پڑے گی۔ تاہم رپورٹ آنے سے پہلے ہی جینت کی موت سے متعلق کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ریلوے پھاٹک کے قریب ایک وقت تک عام لوگوں کو ریلوے پٹری کے راستے ہی دوسری جانب جانا پڑتا تھا۔ تقریباً ایک سال قبل ریلوے حکام نے وہاں سب وے تعمیر کر دیا تھا۔ اس کے بعد ریلوے کی جانب سے پھاٹک کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ بند پھاٹک سے گزرنے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑے جانے پر ریلوے پولیس بھاری جرمانہ بھی عائد کرتی ہے۔ ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ جینت سب وے کا استعمال کرنے کے بجائے ریلوے پٹری کیوں عبور کر رہے تھے؟
شکوک کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ جس مقام سے ان کی لاش برآمد ہوئی، وہ ریلوے پھاٹک سے تقریباً 50 میٹر دور ہے۔ تفتیش کاروں کے ذہن میں سوال ہے کہ اگر جینت جلدی میں یا کسی دوسری وجہ سے پٹری عبور کرنے گئے بھی تھے، تو وہ پٹری کے ساتھ مزید 50 میٹر آگے کیوں گئے؟
بعض عینی شاہدین کا خیال ہے کہ جینت نے خودکشی کی ہے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے ایک عینی شاہد سودام شیت نے کہا، ”جمعہ کی شام میں ایک ضروری کام سے اسٹیشن موڑ سے کیٹھارڈانگا کی طرف جا رہا تھا۔ جلدی میں ہونے کی وجہ سے میں نے سب وے استعمال کرنے کے بجائے ریلوے پٹری کے اوپر سے راستہ عبور کرنا شروع کیا۔ اسی دوران آرنیک ایکسپریس بانکوڑہ اسٹیشن کی جانب آ رہی تھی۔ اچانک میں نے دیکھا کہ ایک شخص لڑکھڑاتے ہوئے چلتی ٹرین کے سامنے کود گیا۔ اس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ شخص پولیس افسر ہیں۔ یہ واقعہ کسی بھی صورت میں حادثہ نہیں تھا۔ مجھے یقین ہے کہ انہوں نے خودکشی کی ہے۔“
تاہم جینت کے اہل خانہ ابھی خودکشی کے اس نظریے کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ان کے رشتہ دار بانکوڑہ پہنچ گئے تھے۔ جینت کے بہنوئی راجیو مکھرجی نے کہا، ”کم از کم مجھے تو نہیں لگتا کہ انہوں نے خودکشی کی ہے۔ بچپن سے ہی میرا ان کے ساتھ دوستوں جیسا تعلق رہا ہے۔ ہم دونوں مقامی کلب سے بھی وابستہ تھے۔ اگر انہیں اس طرح کی کوئی پریشانی ہوتی تو یقیناً مجھے بتاتے۔ البتہ وہ ذہنی دباو¿ کا شکار تھے یا نہیں، یہ بات ان کی اہلیہ ہی بہتر بتا سکتی ہیں۔“
پولیس ذرائع کے مطابق جینت نے 45 دن پہلے بانکوڑہ تھانے میں اپنی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ تاہم تین سے چار دن کام کرنے کے بعد طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے انہوں نے مسلسل 40 دن کی چھٹی لے لی تھی۔ جمعہ کے روز ہی وہ دوبارہ تھانے پہنچ کر ڈیوٹی پر واپس آئے تھے۔ اس کے فوراً بعد یہ واقعہ پیش آگیا۔

بانکوڑہ میں ٹرین کی ٹکر سے پولیس انسپکٹر کی موت...

Source: Admin
Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn