International

ٹوماہاک میزائلوں کے ذخیرے میں کمی، پینٹاگون کی تشویش میں اضافہ

ٹوماہاک میزائلوں کے ذخیرے میں کمی، پینٹاگون کی تشویش میں اضافہ

ایران میں جاری فوجی آپریشنز کے تسلسل کے ساتھ ہی اسلحہ کے ذخائر کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے۔ امریکی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ نے جنگ کے پہلے چار ہفتوں کے دوران ٹوماہاک طرز کے 850 سے زائد کروز میزائل داغے ہیں۔ استعمال کی یہ غیر معمولی رفتار امریکی وزارت دفاع کے اندر ان درست ہدف کو نشانہ بنانے والے ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی کے حوالے سے تشویش کا باعث بنی ہے۔ ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اس کثرت سے استعمال نے پینٹاگان کو استعمال کی شرح کی نگرانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس دوران یہ انتباہات بھی سامنے آئے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں موجود ذخائر تشویشناک سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ اگر آپریشنز اسی رفتار سے جاری رہے تو گولہ بارود ختم ہونے کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ حکام نے اشارہ دیا ہے کہ اصل مسئلہ محدود پیداوار کا ہے کیونکہ سالانہ صرف چند سو میزائل تیار کیے جاتے ہیں جبکہ ایک میزائل کی تیاری میں لگ بھگ دو سال کا وقت لگ سکتا ہے اور اس کی لاگت تقریباً 3.6 ملین ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔ حکام کے تخمینوں کے مطابق امریکہ نے محض ایک ماہ کے دوران ان میزائلوں کے اپنے کل ذخیرے کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ استعمال کر لیا ہے جس سے دیگر علاقوں بالخصوص بحر ہند اور بحر الکاہل میں کسی بھی ممکنہ تنازع کے لیے اس کی تیاری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ ماہ کے آخر میں چھڑنے والی جنگ ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے تبادلے کے ساتھ اب بھی جاری ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدے تک پہنچنے کے واسطے چھ اپریل سنہ 2026ء تک کی مہلت دے رکھی ہے۔ یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی انتظامیہ اس بات پر زور دے رہی ہے کہ آپریشنز جاری رکھنے کے لیے اس کے پاس کافی گولہ بارود موجود ہے تاہم دفاعی کمپنیوں کے ساتھ پیداوار بڑھانے اور مینوفیکچرنگ کی رفتار تیز کرنے کے لیے بات چیت شروع کر دی گئی ہے۔ ٹوماہاک میزائل جو سنہ 1991ء کی خلیجی جنگ سے جنگی بحری جہازوں اور آبدوزوں سے داغے جا رہے ہیں طویل فاصلے تک مار کرنے والے نمایاں ترین ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ایک ہزار میل سے زائد فاصلے پر موجود اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور سیٹلائٹ کے ذریعے اپنا راستہ تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ حملوں کے نتائج کے بارے میں براہ راست معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments