International

پاکستانی زیر قبضہ کشمیر میں عوامی احتجاج شدت اختیار کر گیا، 11 ہلاک 70 سے زائد زخمی

پاکستانی زیر قبضہ کشمیر میں عوامی احتجاج شدت اختیار کر گیا، 11 ہلاک 70 سے زائد زخمی

نئی دہلی: پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) سے پرتشدد جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ عوامی احتجاج پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں اب تک 11 شہری ہلاک جبکہ 70 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حکومت نے عوامی مسائل اٹھانے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ جے اے اے سی ایک سول سوسائٹی تنظیم ہے جو مہنگائی، معاشی مشکلات اور سیاسی مسائل پر آواز اٹھاتی رہی ہے۔ کشیدگی اس وقت بڑھی جب تنظیم کے ایک کارکن کی لاش اسپتال لائی گئی، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں مارا گیا تھا۔ اس کے بعد تنظیم کے حامیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ مقامی حکام کے مطابق تصادم میں متعدد پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے جبکہ مظاہرین کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس معاملے پر بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا ہے کہ "پاکستان اپنی ناکامیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے جھوٹی خبروں اور ویڈیوز کا سہارا لے رہا ہے۔" انہوں نے کہا کہ "پی او کے میں پولیس کی سخت کارروائیوں کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، اور عالمی برادری کو پاکستان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔" پی او کے کے پولیس سربراہ لیاقت ملک کے مطابق زخمیوں میں 23 سکیورٹی اہلکار اور 50 مظاہرین شامل ہیں۔ جے اے اے سی کے رہنما شوکت نواز میر نے ایک ویڈیو پیغام میں الزام عائد کیا ہے کہ ریاست نے راولاکوٹ میں ان کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments