وینزویلا میں جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے عزیزوں کی تلاش میں سرگرداں اہل خانہ اور ریسکیو ٹیموں میں مایوسی بڑھتی جارہی ہے ۔ دو طاقت ورزلزلوں کے بعد 72 گھنٹوں سے زائد ہوچکے ہیں اور یہ عرصہ ملبے میں دبے افراد کو زندہ نکالنے کے لیے اہم مانا جاتا ہے ۔ اس بیچ ، بین الاقوامی امدادی ٹیموں کی آمد سے غمزدہ خاندانوں میں امید کی ایک کرن جگی ہوئی ہے۔ وینزویلا کے حکام نے بتایا کہ ہفتے تک 17 پروازوں کے ذریعے 1600 سے زائد امدادی اہلکار ملک پہنچ چکے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ، وینزویلا کے شہریوں نے حکومت کے ردعمل کو ناکافی قرار دیا ہے ۔ ان کے مطابق فوج، فائر بریگیڈ، پولیس اور فوجی کیڈٹس اس بڑے سانحے سے نمٹنے کے لیے مناسب طور سے تیار نہیں تھے۔ قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے سرکاری ٹیلی ویژن پر بتایا کہ علاقے میں 14 ہزار سے زائد فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ متاثرہ علاقے میں داخلہ بند کر دیا گیا ہے اور صرف خصوصی اجازت نامے کے ذریعے ہی رسائی ممکن ہے ۔ تاہم متاثرہ علاقوں میں موجود متعدد افراد کا کہنا تھا کہ انہوں نے حکومت کی موجودگی نہ ہونے کے برابر دیکھی۔ کئی لوگ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے پر چڑھ کر اپنے پیاروں کے نام پکار رہے تھے، اس امید میں کہ شاید زندگی کی کوئی علامت مل جائے۔ ساحلی بستیاں گرد و غبار سے اٹی ہوئی تھیں۔ شدید گرمی کے باعث زیادہ تر لوگ ماسک پہنے ہوئے تھے کیونکہ گل سڑ جانے والی لاشوں کی بدبو فضا میں پھیل رہی تھی۔ حفاظتی ہیلمٹ یا دیگر حفاظتی سامان کی عدم دستیابی کے باعث امدادی کارکنوں اور شہریوں نے موٹر سائیکل ہیلمٹ پہن کر ملبے میں تلاش جاری رکھی۔ ملبے میں لوگوں کی زندگی کی بے شمار یادگاریں بکھری پڑی تھیں۔ حکومتی ردعمل سے نالاں بعض افراد نے ایک کھدائی کرنے والی مشین کو ملبہ چھوڑ کر جانے سے روک دیا اور اس کے آپریٹر کو کیبن سے نیچے اتار لیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سرکاری اہلکار تباہ شدہ عمارتوں کے سامنے سیلفیاں لینے کے بعد بغیر کسی امدادی کام کے وہاں سے روانہ ہو گئے۔ حکمران جماعت کے عہدیدار اکثر سرکاری سرگرمیوں میں اپنی شرکت ظاہر کرنے کے لیے سیلفیاں لیتے ہیں۔ لا گوائیرا کے دیگر علاقوں میں امدادی ٹیمیں سفید تھیلوں میں بند اور بعض اوقات بغیر ڈھانپے ہوئے لاشوں کو مٹی سے بنے ایک عارضی اسپتال کی پارکنگ سے سفید ٹرکوں میں منتقل کر رہی تھیں، جہاں ان کی شناخت کی جا رہی تھی۔ بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت کے مطابق اس تباہی سے 60 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں سے تقریباً 20 لاکھ صرف دارالحکومت کاراکاس میں رہتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلوں کی کم گہرائی اور مختصر وقفے میں آنے والے شدید جھٹکوں نے تباہی میں کئی گنا اضافہ کیا۔ گزشتہ کئی دنوں سے کاراکاس اور زلزلہ متاثرہ علاقوں میں وقفے وقفے سے آفٹر شاکس محسوس کیے جا رہے ہیں، جن میں ہفتے کے روز آنے والا 4.8 شدت کا جھٹکا بھی شامل ہے۔
Source: Social Media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع