اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسی کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کے عمل کی ’شدید ترین الفاظ میں مذمت‘ کی ہے۔ نتن یاہو کا بیان اس تصویر کے آن لائن وائرل ہونے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک اسرائیلی فوجی کو ہتھوڑے سے حضرت عیسی کے ایک مجسمے پر وار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ کہ وہ اور ’اسرائیلیوں کی بھاری اکثریت‘ اس واقعے کی بارے میں جان کر ’دلبرداشتہ‘ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور ذمہ دار فوجی کے خلاف ’سخت تادیبی کارروائی‘ کی جائے گی۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم کا مزید کہنا کہ ’اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں واحد مقام ہے جہاں تمام مذاہب کے لیے عبادت کی آزادی کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ ہم اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور اس سے پہنچنے والی کسی بھی تکلیف پر معذرت خواہ ہیں۔‘ اس سے قبل اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکابی نے اس واقعے پر ’فوری، سخت اور اعلانیہ‘ کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی