کوئی بھی شخص یا تنظیم احتجاج کے لیے مختص مقام پر غیر معینہ مدت تک قبضہ نہیں کر سکتی: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے منگل کے روز کہا کہ کوئی بھی شخص، گروپ یا تنظیم احتجاج کے لیے مختص مقام پر غیر معینہ مدت تک قبضہ رکھنے کا حق نہیں جتا سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ دوسرے لوگوں کو بھی اسی عوامی مقام پر اپنے مسائل اور شکایات اٹھانے کا مساوی آئینی حق حاصل ہے۔
یہ تبصرہ عدالت نے جولائی میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی سے متعلق متعدد عرضیوں کی سماعت کے دوران کیا۔ ان عرضیوں میں بڑے پیمانے پر حراست میں لیے جانے، پولیس کی زیادتیوں، انٹرنیٹ پر پابندیوں اور میٹرو اسٹیشنوں کو بند کیے جانے کے الزامات شامل ہیں۔
ان احتجاجی مظاہروں کے دوران پارلیمنٹ کی جانب مجوزہ مارچ اور تشدد کے واقعات بھی پیش آئے تھے۔ اس کے علاوہ دہلی کے تاجروں نے بھی الگ سے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والے مظاہروں سے کاروبار متاثر ہوا اور ان کے روزگار کو نقصان پہنچا۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے کہا:
’’مقررہ مقام پر احتجاج کرنے کا حق بھی ایک مخصوص مدت کے لیے ہونا چاہیے۔ آپ ہمیشہ کے لیے احتجاجی مقام پر قبضہ نہیں کر سکتے۔ آخر کسان، تاجر اور صحافی کہاں جائیں گے؟ ہر کسی کو احتجاج کرنے کا حق ہے۔ احتجاج کے لیے مختص مقامات ایک مقررہ مدت کے لیے ہی دیے جانے چاہئیں۔‘‘
بنچ نے واضح کیا کہ کسی مخصوص مقام پر احتجاج کی اجازت ملنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہاں غیر معینہ مدت تک قبضہ کرنے کا لائسنس مل گیا ہے۔
عدالت نے کہا، ’’آپ غیر معینہ مدت تک احتجاجی مقام پر قبضہ نہیں کر سکتے۔ آپ یہ کہتے ہوئے دوسرے لوگوں کو احتجاج کرنے سے نہیں روک سکتے کہ ’میں احتجاج کر سکتا ہوں اور آپ نہیں‘۔‘‘
عدالت نے مزید کہا کہ احتجاج کی اجازت دینے یا مسترد کرنے کے حکم میں اس کی وجوہات واضح ہونی چاہئیں۔ اگر احتجاج کی اجازت دی جاتی ہے تو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ متعلقہ مقام کتنی مدت تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دیگر عرضیوں کے ساتھ عدالت دہلی کریانہ کمیٹی اور تاجروں کی دیگر تنظیموں کی جانب سے دائر درخواست کی بھی سماعت کر رہی تھی۔ ان کی نمائندگی سینئر وکیل مکل روہتگی کر رہے تھے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ دارالحکومت کے بعض علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے کاروبار متاثر ہوا، خاص طور پر تہواروں کے موسم میں تاجروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے بنچ کو بتایا کہ رام لیلا میدان، کناٹ پلیس کے قریب واقع ہے اور اس کے آس پاس کے علاقے میں لاکھوں لوگ رہتے ہیں، جبکہ وہاں متعدد دکانیں اور تجارتی مراکز بھی موجود ہیں۔
کوئی بھی شخص یا تنظیم احتجاج کے لیے مختص مقام پر غیر معینہ مدت تک قبضہ نہیں کر سکتی: سپریم کورٹ...
Source: Admin