لوگوں کی جانب سے مراقبہ شروع نہ کرنے کی ایک سب سے عام وجہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اس مشق کے معروف فوائد محسوس کرنے کے لیے سالہا سال کے روزانہ مراقبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ’’ سائیکالوجی ٹوڈے‘‘ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق اگرچہ کچھ لوگوں کو وقت اور توجہ کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ عام تصور کے برعکس مراقبہ کی مشق کے لیے بہت زیادہ وقت درکار نہیں ہوتا۔ نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مراقبہ اسی لمحے دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مغرب میں مراقبہ کی مقبولیت کے پیچھے دہائیوں کی نفسیاتی تحقیق موجود ہے۔ اس تحقیق کا زیادہ تر حصہ ان اعصابی تبدیلیوں کی نشاندہی پر مرکوز رہا ہے جو مراقبہ کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔ برسوں سے سائنس دانوں نے تجربہ کار مراقبہ کرنے والوں کے دماغی لہروں کے نمونوں کو ریکارڈ کیا ہے اور ان کا موازنہ غیر ممارسین سے کیا ہے جس سے مراقبہ کے اعصابی اثرات کی ایک جامع تصویر سامنے آئی ہے۔ تحقیق واضح طور پر تصدیق کرتی ہے کہ مراقبہ تناؤ کو کم کرتا ہے۔ توجہ کو بہتر بناتا ہے، برداشت کی صلاحیت بڑھاتا ہے اور جسم میں سوزش کو بھی کم کرتا ہے۔ بنگلور میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز کے محققین کی ایک ٹیم نے لیج اور اوٹاوا یونیورسٹیوں کے محققین کے تعاون سے 128 چینلز والی ای ای جی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے 103 شرکاء کی دماغی لہروں کی سرگرمی کا سیکنڈ بہ سیکنڈ جائزہ لیا۔ شرکاء کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ بالکل نو آموز جنہوں نے پہلے کبھی مراقبہ نہیں کیا تھا، ابتدائی مشق کرنے والے اور وہ ماہرین جن کے پاس ہزاروں گھنٹوں کا تجربہ تھا۔ صرف سات منٹ کی مراقبہ کی مشق پر کی گئی اس تحقیق کے نتائج نے مراقبہ کے اثرات کے بارے میں پچھلے کچھ مفروضوں کو غلط ثابت کر دیا۔ تینوں گروپوں میں مراقبہ شروع کرنے کے محض دو سے تین منٹ کے اندر دماغی لہروں میں نمایاں تبدیلیاں آنا شروع ہو گئیں اور یہ اثرات تقریباً سات منٹ کے بعد عروج پر پہنچ گئے۔ محققین نے درج ذیل دماغی لہروں کی نگرانی کی۔ • الفا لہریں (8-12 ہرٹز): یہ دماغ میں سکون اور شعوری آرام کی علامت ہیں جو پرسکون توجہ کے لمحات میں پریشانی یا خلفشار سے دور رہنے کی صورت میں پیدا ہوتی ہیں۔ مراقبہ کے دوران تمام شرکاء میں الفا لہروں کی طاقت میں مستقل اور تیزی سے اضافہ ہوا۔ • تھیٹا لہریں (4-8 ہرٹز): یہ گہری اندرونی توجہ، تخلیقی صلاحیت اور اس کیفیت سے وابستہ ہیں جسے تجربہ کار مشق کرنے والوں کے اندر کی طرف رجوع کرنا کہتے ہیں۔ ماہرین میں پہلے 30 سیکنڈز کے دوران ہی تھیٹا لہروں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طویل مدتی مشق نہ صرف مراقبہ کے طریقے کو بلکہ دماغ کے آرام کرنے کے انداز کو بھی بدل دیتی ہے۔ • بیٹا ون لہریں (13-20 ہرٹز): یہ چوکس اور مرکوز توجہ کی عکاسی کرتی ہیں۔ مراقبہ کے دوران دماغی سرگرمی میں اضافہ اس کیفیت کا باعث بنتا ہے جسے محققین پرسکون بیداری کہتے ہیں جس میں ذہن بیک وقت پرسکون اور چوکنا ہوتا ہے۔ یہ اعداد و شمار ان تجربات کی تصدیق کرتے ہیں جو مراقبہ کرنے والے بیان کرتے ہیں۔ اسی دوران ذہن کے بھٹکنے، غنودگی اور توجہ کی کمی سے وابستہ لہروں میں کمی واقع ہوئی۔ مطالعہ کے نتائج نے دکھایا ہے کہ چند منٹوں میں ذہن زیادہ مرکوز اور پرسکون ہو گیا اور اس کے بھٹکنے کے امکانات کم ہو گئے۔ جب ذہن بھٹک جائے تو شرکا اپنی سانسوں کی قدرتی حرکت پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔ یہ ایک فطری عمل ہے تو وہ اسے محسوس کریں اور نرمی سے اپنی توجہ دوبارہ سانس پر لے آئیں۔ اس مشق کا مقصد خیالات کو روکنا نہیں بلکہ صرف بغیر کسی فیصلے کے خیال کو نوٹ کرنا اور پھر توجہ کے مرکز یعنی سانس پر واپس آنا ہے۔ زیرِ مطالعہ اعصابی فوائد کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مراقبہ کی مشق کچھ بنیادی مہارتوں کو پروان چڑھاتی ہے۔ یہ فوری ردِعمل کے بجائے سوچ سمجھ کر جواب دینے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ اپنے اندرونی عالم کا بغیر کسی فیصلے کے مشاہدہ کرنے سے انسان اپنی توجہ کے تقاضوں کو مہارت اور دانشمندی سے نمٹانے کے بہتر قابل ہو جاتا ہے۔ مراقبہ کو روزمرہ کی زندگی میں کام پر جاتے ہوئے، میٹنگ کی تیاری کے دوران یا سونے سے پہلے بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی