ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ناکام امریکی صدر نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ مذاکرات کے اصولوں کے پابند ہیں اور نہ ہی جنگ بندی کے معاہدے کا احترام کرتے ہیں۔ اپنے بیان میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکا نے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا، جنگ بندی کی یہ غیر ذمہ دارانہ خلاف ورزی امریکا کے لیے پسپائی اور پشیمانی کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ الزام تراشی کا کھیل اب مزید نہیں چلے گا۔ اس سے قبل ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا کرکے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی ہے، مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی خلاف ورزی کاجواب فوری اور فیصلہ کن انداز میں دیا جائے گا۔ خیال رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد امریکا نے ایران پر حملہ کردیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ہرمز میں ایران کی جانب سے ایک تجارتی جہاز پر حملے کے جواب میں فضائی حملہ کیا۔ ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے جزیرہ سرک پر حملہ کیا جسے ناکام بنا دیا گیا، خطے میں امریکی فوج کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، امریکا کے کسی بھی نئے حملے کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
Source: SOCIAL MEDIA
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع