International

میری حمایت کی شرح 59 فیصد تک پہنچ گئی، قیمتوں میں کمی آ رہی ہے: ٹرمپ

میری حمایت کی شرح 59 فیصد تک پہنچ گئی، قیمتوں میں کمی آ رہی ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی حمایت کی شرح 59 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے اسے اپنی پالیسیوں کے لیے بڑھتی ہوئی عوامی حمایت قرار دیا۔ ٹرمپ نے یہ بات اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر ایک پوسٹ میں کہی، جس میں انہوں نے معاشی صورتحال میں بہتری اور توانائی کی قیمتوں میں کمی کو آپس میں جوڑا۔ ٹرمپ نے لکھا: حمایت کی شرح 59 فیصد ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ قیمتیں بھی کم ہو رہی ہیں۔ آپ کا شکریہ! اس پوسٹ کے آخر میں انہوں نے دستخط کیے: صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ۔ تاہم ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ نہیں بتایا کہ یہ رائے شماری کس ادارے نے کی، نہ ہی انہوں نے سروے کے طریقہ کار یا اس کے انعقاد کے وقت کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم کیں۔ تازہ ترین قومی سطح کے شائع شدہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق صدر کی مقبولیت کی شرح ٹرمپ کے بتائے گئے اعداد و شمار سے کم ہے، جبکہ مختلف اداروں کے سرویز میں امریکی صدر کی عوامی مقبولیت جانچنے کے نتائج میں فرق پایا جاتا ہے۔ ٹرمپ کی یہ پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب وہ مسلسل اقتصادی معاملات کو اپنی ترجیح بنا رہے ہیں۔ وہ بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ ان کی پالیسیوں نے زندگی گزارنے کے اخراجات کم کرنے، ایندھن اور توانائی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں کردار ادا کیا ہے، جس کے اثرات مہنگائی کی شرح اور صارفین کے اخراجات پر بھی پڑ رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے ممکنہ اثرات پر اندرونِ ملک معاشی صورتحال کے حوالے سے بحث میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکی صدر اپنی حکومت کی معاشی کامیابیوں کو نمایاں کرتے رہے ہیں، خاص طور پر تیل اور گیس کی قیمتوں، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں اپنی پالیسیوں کو اجاگر کرتے رہے ہیں۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ان کی حکومت کو سیاسی اور خارجہ محاذ پر کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نمایاں ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں بھی سامنے آیا ہے، جب رائے عامہ کے جائزوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جن میں مختلف اداروں کے درمیان ٹرمپ کی کارکردگی کے جائزے میں فرق دکھائی دیتا ہے۔ سروے کے نتائج اس بات پر بھی منحصر ہوتے ہیں کہ رائے شماری کا طریقہ کار کیا ہے اور نمونہ کس طبقے سے لیا گیا ہے، آیا اس میں ممکنہ ووٹرز، رجسٹرڈ ووٹرز یا تمام بالغ افراد شامل ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments