International

مصر: 700 سال قدیم قلعہ صلاح الدین میں ایک پُراسرار آبی نظام کا انکشاف

مصر: 700 سال قدیم قلعہ صلاح الدین میں ایک پُراسرار آبی نظام کا انکشاف

مصر میں ایک نئے آثارِ قدیمہ کے انکشاف میں قاہرہ کے قلعہ صلاح الدین ایوبی کے نئے راز سامنے آئے ہیں۔ ایک مصری فرانسیسی آثارِ قدیمہ کے وفد نے مملوک دور سے تعلق رکھنے والے ایک مکمل اور پیچیدہ آبی نظام کو بے نقاب کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک مسجد کے بقایاجات، تاریخی مقبرے اور خدماتی تنصیبات بھی ملی ہیں جو معروف تاریخی ذرائع میں دستاویزی شکل میں موجود نہیں تھیں۔ یہ دریافتیں قلعے کے ارد گرد موجود "عرب الیسار" اور "الحطابہ" کے علاقوں میں کی جانے والی کھدائی کے دوران سامنے آئیں، یہ کھدائی مصر کے نمایاں ترین تاریخی مقامات میں سے ایک کے ارد گرد کے تاریخی علاقوں کے مطالعہ، دستاویز سازی اور انہیں بحال کرنے کے مقصد سے شروع کیے گئے ایک سائنسی منصوبے کا حصہ ہے۔ آثارِ قدیمہ کی سپریم کونسل کے مطابق مصری فرانسیسی آثار قدیمہ کے وفد نے "عرب الیسار" کے علاقے میں ایک ایسے حصے کا انکشاف کیا ہے جسے قلعہ صلاح الدین کو پانی کی فراہمی کے نظام میں "گمشدہ کڑی" قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا عنصر ہے جس کی طرف پچھلے تاریخی ذرائع نے اشارہ نہیں کیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ حصہ مشہور ’’ سور مجری العیون‘‘ (پانی کی نالیوں کی دیوار) کے نظام کی براہِ راست توسیع تھا۔ کھدائی کے نتیجے میں دو بڑے کنویں دریافت ہوئے ہیں جنہیں بڑے پتھروں کے بلاکس کا استعمال کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا تھا جن میں سے ایک کی گہرائی تقریباً 10 میٹر اور دوسرے کی 8 میٹر ہے۔ یہ پانی اٹھانے اور اسے ذخیرہ کرنے کے لیے مخصوص تھے۔ محققین کو ایک مکمل آپریٹنگ نظام کے بقایاجات بھی ملے ہیں جس میں چار گھومنے والے رہٹ اور پتھر کی نالیوں کا ایک نیٹ ورک شامل ہے۔ اس کے علاوہ اس کے انتظام سے وابستہ خدماتی عناصر بھی ملے ہیں جن میں چوپایوں کی نقل و حرکت کے راستے، ان کے رہنے کے کمرے، چارے کے گودام اور جانوروں کے پانی پینے کے حوض شامل ہیں۔ محققین کا خیال ہے کہ یہ تنصیبات مملوک دور کے دوران واٹر انجینئرنگ اور وسائل کے انتظام کی ایک جدید سطح کی عکاسی کرتی ہیں۔ اسی طرح "الحطابہ" کے علاقے میں کھدائی کے کاموں کے دوران مملوک دور کی ایک مسجد کے بقایاجات کا انکشاف ہوا ہے۔ ان بقایا جات میں ایوانِ قبلہ، محراب اور جنوب مغربی دالان کے کچھ حصے اور اس کے پتھر کے فرش شامل ہیں۔ وفد کو مسجد سے جڑا ہوا ایک مدفن کا کمرہ بھی ملا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقبروں کا ایک مجموعہ بھی ملا ہے جو مختلف اسلامی ادوار سے تعلق رکھتا ہے اور جس میں انسانی ہڈیوں کے بقایاجات موجود ہیں۔ مزید برآں ایک ایسا مقبرہ بھی ملا ہے جس کے بارے میں احتمال ہے کہ وہ اسلامی دور کے آغاز سے تعلق رکھتا ہے۔ ان دریافتوں میں کئی اہم آثارِ قدیمہ کی اشیاء بھی شامل تھیں جن میں مٹی کے وہ برتن شامل ہیں جو پانی اٹھانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ مملوک اور عثمانی ادوار کے دھاتی سکے، اس کے علاوہ روزمرہ کی زندگی کے وہ اوزار، زیورات اور ہتھیار بھی شامل ہیں جو اٹھارویں اور انیسویں صدی کے ہیں۔ وفد نے الخانقاہ النظامية کی تھری ڈی ڈیجیٹل دستاویزی سازی کا کام بھی انجام دیا اور اس کے نئے حصوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ یہ کام اس مقام کے لیے ایک مربوط ڈیجیٹل ڈیٹا بیس بنانے کے فریم ورک کے تحت انجام دیا گیا۔ آثارِ قدیمہ کے وفد کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابراہیم نے کہا کہ ابتدائی مطالعہ اس بات کو ترجیح دیتا ہے کہ دریافت ہونے والی کچھ آبی تنصیبات سلطان الناصر محمد بن قلاوون کے عہد سے تعلق رکھتی ہیں۔ تنصیبات سلطان الناصر محمد بن قلاوون نے 1310 اور 1341 عیسوی کے درمیان حکومت کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھدائی سے ایک نئی آبی نہر کا بھی انکشاف ہوا ہے جو مغرب کی طرف شاہی اصطبل کی جانب جاتی ہے اور یہ چیز قلعے کے اطراف میں موجود کئی اہم معمارانہ تنصیبات کی تاریخ کا دوبارہ تعین کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ یاد رہے قلعہ صلاح الدین ایوبی قرونِ وسطیٰ کے نمایاں ترین جنگی قلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی تعمیر کا آغاز 1176 عیسوی میں سلطان صلاح الدین کے حکم پر جبل المقطم پر ہوا تھا۔ اس کا مقصد قاہرہ کو صلیبی حملوں کے خلاف محفوظ بنانا اور اسے ایک ہی دفاعی نظام کے تحت فسطاط شہر سے جوڑنا تھا۔ قلعے کی تعمیر 1207 عیسوی میں سلطان الکامل بن العادل کے عہد میں مکمل ہوئی۔ بعد میں یہ کئی صدیوں تک مصر میں حکومت اور انتظامیہ کا ہیڈکوارٹر بنا رہا۔ اس کے بعد یہ ملک کے اہم ترین تاریخی اور سیاحتی مقامات میں سے ایک میں تبدیل ہوگیا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments