International

ایران میں ہمارا مشن ابھی ختم نہیں ہوا ... موساد کے نئے سربراہ کا اعلان

ایران میں ہمارا مشن ابھی ختم نہیں ہوا ... موساد کے نئے سربراہ کا اعلان

ایران کے ساتھ جاری جنگ پر اپنے پہلے تبصرے میں اسرائیلی موساد کے نئے سربراہ رومان گوفمان نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ تہران میں اسرائیل کا مشن ابھی ختم نہیں ہوا۔ ایک وڈیو بیان میں انہوں نے ایران کے خلاف چالیس روزہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس لڑائی میں بہت بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ غوفمان نے آج منگل کے روز مزید کہا کہ موساد نے ایک بار پھر تہران کے قلب میں کارروائی کی اور اسرائیلی فوج کو انتہائی درست انٹیلی جنس معلومات فراہم کیں، جس کی مدد سے ان میزائلوں کو نشانہ بنایا گیا جو اسرائیل کے لیے خطرہ تھے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مشن ابھی ادھورا ہے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل ہی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے رومان گوفمان کو یکم جون سے موساد کا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دوسری جانب تل ابیب میں فوجی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے اپنے جنرلوں کو فوری طور پر جنگی بنیادوں پر انتہائی خبردار رہنے اور مستقبل قریب میں ایران کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ یہ پیش رفت امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان میں ہونے والے مذاکرات میں تعطل کی خبروں کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس اب ایران میں عسکری اہداف، بالخصوص میزائل سسٹمز اور لانچنگ پیڈز کی فہرست کو تیزی سے حتمی شکل دے رہی ہے تاکہ سیاسی قیادت کے فیصلے کی صورت میں فوری حملہ کیا جا سکے۔ اسرائیلی سکیورٹی اداروں کا اندازہ ہے کہ پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں، جس سے سفارتی حل کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔ تاہم فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ تاحال فوجی آپریشن کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا، موجودہ اقدامات کا مقصد محض ہر طرح کی صورتحال کے لیے مکمل تیاری کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے برعکس پانچ با خبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کی مذاکراتی ٹیمیں آئندہ چند دنوں میں دوبارہ اسلام آباد واپس آ سکتی ہیں۔ ایک سینئر ایرانی ذریعے کے مطابق، مذاکرات کے لیے جمعہ سے اتوار تک کا وقت رکھا گیا ہے۔ پاکستانی حکام نے بھی دونوں ممالک سے رابطوں کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ ایران نے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے مثبت رد عمل دیا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات 1979 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہ راست اور اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ تھا، جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کو دو ریاستی حل جیسے اہم علاقائی مسائل کے تناظر میں ختم کرنا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments