International

موساد کے نئے سربراہ کی تقرری پر اختلافات

موساد کے نئے سربراہ کی تقرری پر اختلافات

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے نئے سربراہ رومن گوفمین کی تقرری پر اختلافات سامنے آگئے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق موساد کے بین الاقوامی امور شعبے تیویل کے سربراہ عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ موساد کے نئے سربراہ گوفمین وزیراعظم نتین یاہو کےقریبی دوست ہیں۔ اسرائیلی ہائی کورٹ نے پیر کے روز نئے موساد چیف رومان گوفمان کو اسرائیل کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی کا سربراہ بننے کی اجازت دے دی ہے۔ گوفمان کی بطور موساد چیف تقرری کے خلاف اسرائیلی اٹارنی جنرل نے پٹیشن دائر کر رکھی تھی۔ تاہم اسرائیلی ہائیکورٹ نے موساد چیف کی تقرری کے خلاف اٹارنی جنرل کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ ایک کے مقابلے میں دو ججوں کی اکثریت کی بنیاد پر دیا ہے۔ اسرائیلی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے میجر جنرل رومان گوفمان کو حساس ادارے کا سربراہ بنانے میں کوئی ایسی چیز آڑے نہیں کہ جو اسرائیل کے لیے کمٹمنٹ یا وفاداری میں کوتاہی ظاہر کرتی ہو۔ یاد رہے دس مئی کو اسرائیلی اٹارنی جنرل گالی بہاراف میارا نے عدالت کو ایک خط لکھ کر درخواست میں میجر جنرل گوفمان کی بطور موساد چیف تقرری کی مخالفت کی تھی۔ اٹارنی جنرل نے اپنی دائر کردہ درخواست میں لکھا 2022 میں میجر جنرل ایک ایسے اسرائیلی نوجوان کے لیے کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام رہے تھے۔ جسے اسرائیلی فوج نے گوفمان کی درخواست پر ہی جاسوسی کے لیے بھرتی کیا تھا۔ درخواست میں اسرائیلی نوجوان اوری ایلمکیز کی اس وقت کی عمر 17 سال بتائی گئی ہے جب اسے جاسوس کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کر کے بھرتی کیا گیا۔ یہ 17 سالہ اسرائیلی شام و دیگر ملکوں کی جاسوسی کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔ جب یہ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا تھا تو گرفتار ہو گیا ، مگر میجر جنرل گوفمان اس کی مدد کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ اس نوجوان کی جاسوسی سرگرمیاں آن لائن جاری رہتی تھیں۔ لیکن شین بیت اس کے اس کردار سے آگاہ نہیں تھی اس لیے شین بیت نے اسے مشکوک سرگرمیوں پر حراست میں لے لیا تھا۔ شین بیت نے اسے دو ماہ تک زیر تفتیش رکھا اور بعد ازاں اسے ایک سال سے زائد عرصے کے لیے نظر بند رکھا۔ البتہ کوئی چیز اس کے خلاف ثابت نہ ہونے پر اسے رہا کر دیا گیا۔ اٹارنی جنرل کے علاوہ بھی ایک اسرائیلی نے نئے موساد چیف کی تقرری کو چیلنج کیا تھا۔ تاہم عدالت نے رومان گوفمان کے خلاف یہ درخواستیں خارج کر دی ہیں۔ گوفمان نے ایسے واقعات کے اپنے علم میں نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا۔ اسرائیلی عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ میجر جنرل گوفمان نے 17 سالہ ایلمکیز کی گرفتاری سے متعلق معاملے میں ایسا کوئی کرداد ادا نہیں کیا جو موساد سربراہ بننے میں رکاوٹ بن سکتا ہو۔ خیال رہے میجر جنرل گوفمان ان دنوں وزیر اعظم نیتن یاہو کے ملٹری سیکرٹری کے طور پر ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔ انہیں 2025 میں ملٹری سیکرٹری مقرر کیا گیا تھا۔ امکانی طور پر گوفمان آج منگل کو ہی موساد چیف کا عہدہ سنبھال لیں گے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments