International

مقبوضہ مغربی کنارا : ناجائز یہودی بستی کے یہودی آباد کاروں نے فلسطینی کی قبر اکھڑوا دی

مقبوضہ مغربی کنارا : ناجائز یہودی بستی کے یہودی آباد کاروں نے فلسطینی کی قبر اکھڑوا دی

اسرائیلی حکومت کے خصوصی مراعات یافتہ طبقے یہودی آباد کاروں سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ نے ایک فلسطینی کی مقامی قبرستان میں تدفین کے بعد حکم دیا کہ اس قبر کو میت سمیت یہاں سے ختم کر دیا جائے بصورت دیگر بلڈوزر چلا کر قبر اکھاڑی دی جائے گی اور دفن کی گئی میت بھی قبر سے نکال کر پھینک دی جائے گی۔ یہ واقعہ 80 سالہ حسین عساسا نامی فلسطینی کی قبر کے ساتھ پیش آیا ہے۔ اس فلسطینی نے تقریبا ساری زندگی اسرائیلی جبر کے ماحول میں گزاری، تاہم جمعہ کے روز اس کا انتقال ہو گیا تو اس کے بچوں نے اس کی تدفین گاؤں کے دیرینہ قبرستان میں کر دی۔ لیکن انہیں یہودی آباد کاروں کی دھمکیوں کے باعث اسرائیلی فوج کی نگرانی میں اپنے والد کی قبر سے میت کو نکال کر دوسری جگہ لے جانا پڑا۔ جنین کے علاقے میں گاؤں کے نزدیک ہی اسرائیلی حکومت نے ایک بار پھر ناجائز یہودی بستی کی تعمیر شروع کر رکھی ہے۔ اس جگہ پر اسرائیلی حکومت نے قائم اپنی یہودی بستی کا 2005 میں خاتمہ کر دیا تھا۔ تاہم پچھلے سال سے نیتن یاہو حکومت نے اس ناجائز یہودی بستی کو از سر نو بحال کرنا شروع کر دیا ہے۔ جہاں بسائے گئے یہودی آباد کاروں کے مظالم میں غیر معمولی تیزی و تندی آگئی ہے۔ 80 سالہ میت کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے والد کی تدفین ایک جائز قبرستان میں کی تھی اور اس سلسلے میں اسرائیلی فوج سے اجازت بھی لی تھی۔ مگر اس کے باوجود تجہیز و تدفین کے کچھ وقت بعد یہودی آباد کار اس وقت ہمارے والد کی قبر اکھاڑنے پہنچ گئے جب ہم تدفین کے بعد اپنے گھر میں موجود تھے۔ اہل دیہہ نے اس امر کی اطلاع دی کہ یہودی آباد کار قبرستان پہنچ گئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی یہودی بستی کے نزدیک قبرستان میں اب کوئی تدفین نہیں کرنے دی جا سکتی۔ اس لیے خود اپنے باپ کی لاش نکال لے جاؤ وگرنہ بلڈوزر سے قبر اکھاڑ کر لاش نکال پھینکیں گے۔ متوفی حسین عساسا کے بیٹے محمد عساسا نے بتایا کہ جب وہ قبر پر پہنچے تو اسرائیلی فوج بھی موجود تھی۔ ہم نے انہیں جائز قبر اور قبرستان کے بارے میں بتایا۔ لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ ہمیں خود ہی اپنے والد کی قبر کھود کر میت دوسری جگہ لے جا کر دفن کرنا پڑی ۔ اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ اسے یہودی آباد کاروں کے قبر پر پہنچنے کے بعد موقعہ پر پہنچنے کی ہدایت ملی تھی تاکہ کوئی بڑا واقعہ نہ ہو جائے۔ ہم نے بلڈوزر استعمال نہیں کرنے دیا اور اپنی نگرانی میں پر امن انداز میں میت کی دوسری جگہ تدفین ممکن بنائی ہے۔ فوج کی طرف سے انسانی احترام کے معاملے میں افسوس ظاہر کیا گیا ہے، مگر یہودی آباد کاروں کو روکا نہیں جا سکا۔ اس سلسلے میں ایک ویڈیو میں بھی وائرل ہوئی ہے کہ فلسطینی شہری کی قبر اکھاڑی جا رہی ہے اور بعد ازاں ایک میت کو قبر سے نکالا جاتا ہے۔ یاد رہے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اسرائیلی یہودی بستیوں کی تعمیر ناجائز ہے۔ مگر اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کی پابندی کا کون کہہ سکتا ہے۔ امریکہ و یورپی ممالک کی اکثریت اسرائیل کی سرپرست ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments