International

مقبوضہ مغربی کنارا: 2005 میں خالی کردہ یہودی بستی پھر سے آباد کر دی گئی

مقبوضہ مغربی کنارا: 2005 میں خالی کردہ یہودی بستی پھر سے آباد کر دی گئی

اسرائیلی وزیروں نے باقاعدہ طور پر اس ناجائز یہودی بستی کو از سر نو بحال کردیا ہے، جسے بیس سال قبل یہودی آباد کاروں سے خالی کرا لیا گیا تھا۔ یہ یہودی بستی مغربی کنارے کے علاقے میں سا نور کے نام سے قائم ہے۔ اسرائیلی حکومت کا یہ اقدام فلسطینی ریاست کے قیام کےخلاف ایک اور عملی اقدام ہے کہ مقبوضہ علاقوں کو فلسطینیوں کے حوالے کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جیسا کہ اسرائیلی حکومت کے وزیروں نے اس سلسلے میں منعقدہ تقریب میں اعلان کیا 'ہم شمالی سامریہ سے یہودیوں کی بے دخلی کی اصلاح کا جشن منا رہے ہیں۔' اس موقع پر سفید رنگ کی رہائش گاہوں کے قطار اندر قطار کھڑے جھرمٹ میں اسرائیلی وزیر اور دوسرے حکام موجود تھے اور جشن کا سماں تھا۔ جبکہ یہ دعویٰ بھی کیا جارہا تھا کہ اب اسی طرح غزہ کو بھی اپنے قبضے میں رکھتے ہوئے یہودی آباد کیے جائیں گے اور فلسطینیوں کو بے دخل کر دیا جائے گا۔ یاد رہے مشرقی یروشلم کے علاوہ مقبوضہ مغربی کنارے میں 500000 سے زیادہ یہودیوں کو یہودی بستیوں میں آباد کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی ادارے ان یہودی بستیوں کے وجود کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔ مگر اسرائیلی حکومت مسلمانوں کی بستیوں کو بمباری اور ٹینکوں کی مدد سے برباد اور یہودی بستیوں کو آباد کرتے چلے جانے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ اسرائیلی حکومت کی کوشش ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے سمیت تمام فلسطینی علاقوں میں آبادی کے تناسب کو جبرا تبدیل کر دے۔ خیال رہے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی آبادی 30 لاکھ سے زائد ہے۔ سا نور نامی اس یہودی بستی کو اسرائیل نے 2005 میں خالی کر دیا تھا۔ جس کی وجہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو خالی کرنا بتائی گئی تھی۔ اسی زمانے میں غزہ سے بھی اسرائیلی حکومت نے یہودی انخلا کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن اب دوبارہ سے یہودی قبضے کو پکا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ صرف سا نور نامی اس یہودی بستی میں 126 رہائشی یونٹ بنانے کی منظوری اسرائیلی حکومت نے حال ہی میں دی ہے۔ اسرائیلی وزیر خزانہ سموٹریچ نے اس موقع پر کہا ہے 'ہم فلسطینی علاقوں سے انخلا کے اس شرمناک فیصلے کو منسوخ کر کے فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کر رہے ہیں۔'جو دو دہائیاں قبل کیا گیا تھا۔ سموٹریچ جو کہ خود بھی ایک یہودی آبادکار ہے اور یہودی بستی میں رہتا ہے نے غزہ کی پٹی کو بھی نئے سرے سے یہودی بستیوں میں بدلنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا یہ ہماری اسرائیلی ریاست کے لیے 'سیکیورٹی بیلٹ' ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سا نور کی اس نو بحال کردہ یہودی بستی میں فوری طور پر 16 یہودی خاندانوں کو آباد کیا گیا ہے۔ ان میں مغربی کنارے کے شمالی حصے میں یہودی بستیوں کی کونسل کا سربراہ یوسی ڈاگان بھی شامل ہے۔ ڈاگان کے خاندان نے بھی 2005 میں سا نور سے انخلا کیا تھا۔ اس تقریب کے دوران ڈاگان نے کہا 'میرے لیے یہ واقعہ ذاتی اور قومی دونوں حوالوں سے اہم تھا، اب ہمیں یہاں سے کوئی نہیں نکال سکتا۔ ہم واپس آگئے ہیں اور یہیں رہیں گے۔' ڈاگان نے یہ بات یہودی بستی کی بحالی کے لیے فیتہ کاٹنے کے بعد کہی۔ مغربی کنارے پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کیا تھا اور اس میں فلسطینی آبادی کے تناسب کو کمزور کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ قبضہ پکا کرنے کے لیے یہودی بستیوں کی تعمیر شروع کر دی تھی۔ 2022 سے اب تک نیتن یاہو کی حکومت نے 100 سے زائد یہودی بستیوں کے قیام کی منظوری دی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments