International

مارکو روبیو واشنگٹن میں بیٹھ کر وینزویلا چلا رہے: نیویارک ٹائمز

مارکو روبیو واشنگٹن میں بیٹھ کر وینزویلا چلا رہے: نیویارک ٹائمز

ایک صحافتی رپورٹ میں وینزویلا کے اندر امریکی اثر و رسوخ کی توسیع کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے لائی گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اب وینزویلا میں ریاستی ماليات سے لے کر تیل کے شعبے تک اور عبوری حکومت کی تشکیل اور سیاسی فیصلہ سازی تک ریاست کے متعدد اہم ترین امور کو چلانے میں ایک مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ ایسا منظر نامہ ہے جسے امریکی رپورٹیں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی جدید تاریخ میں بے مثال قرار دے رہی ہیں۔ اخبار ’’ نیویارک ٹائمز‘‘ نے ایک طویل رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو رواں سال کے آغاز میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری پر ختم ہونے والے امریکی فوجی آپریشن کے بعد امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے عملی طور پر وینزویلا کے معاملات چلا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس کے ایک اجلاس میں روبیو سے مذاق کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ملک کا صدر بننے کے لیے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس منتقل ہو جانا چاہیے تاہم اخبار کا ماننا ہے کہ روبیو کو منتقل ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ واشنگٹن سے ہی وینزویلا کی ریاست کے بنیادی امور چلا رہے ہیں۔ رپورٹ میں روبیو کو وینزویلا کا عملی حکمران قرار دیا گیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق روبیو کا اثر و رسوخ وینزویلا کے عوامی مالیات کے انتظام، تیل کی آمدنی اور قدرتی وسائل کی تقسیم کی نگرانی کے ساتھ ساتھ عبوری حکومت کی تشکیل اور اس کے فیصلوں پر براہ راست اثر انداز ہونے تک پھیلا ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ وینزویلا کی زیادہ تر تیل کی برآمدات کی آمدنی وصول کرتا ہے اور پھر اسے نجی بینکوں کے ذریعے بتدریج وینزویلا کی حکومت کو منتقل کرتا ہے۔ واشنگٹن اخراجات کے طریقہ کار اور ان فنڈز کو استعمال کرنے کی مجاز اکائیوں کا تعین کرنے کا حق اپنے پاس محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ اخبار کا خیال ہے کہ اس طریقہ کار نے بدعنوانی کے کچھ مظاہر کو کم کرنے میں مدد کی ہے لیکن ساتھ ہی اس نے روبیو کو عبوری حکومت پر وسیع اثر و رسوخ فراہم کیا ہے جو تنخواہیں ادا کرنے اور قومی کرنسی کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ان فنڈز پر انحصار کرتی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روبیو عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز، جو پہلے مادورو حکومت میں نائب صدر کے عہدے پر فائز تھیں، کے ساتھ ہسپانوی زبان میں "واٹس ایپ" ایپلی کیشن کے ذریعے تقریباً روزانہ رابطے میں رہتے ہیں۔ وہ پیغامات، مبارکبادیں اور ذاتی تصاویر کا تبادلہ بھی کرتے ہیں۔ بظاہر اس دوستانہ تعلقات کے باوجود اخبار یہ بھی کہتا ہے کہ طاقت کا توازن مکمل طور پر واشنگٹن کے حق میں جھکا ہوا ہے۔ اخبار اس تعلق کو دو ملکوں کے درمیان شراکت داری کے بجائے ٹرمپ کے دور میں امریکی اثر و رسوخ کے ایک نئے انداز کی عکاسی قرار دیتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارکو روبیو امریکی پابندیوں کے نفاذ کی نگرانی بھی کرتے ہیں اور ان کمپنیوں کا تعین کرتے ہیں جنہیں وینزویلا کے اندر کام کرنے کی اجازت ہے۔ نیز وہ تیل کے شعبے کی تنظیم نو کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں اور کچھ یورپی کمپنیوں کی قیمت پر امریکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری میں ترجیح دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وینزویلا کی حکومت اب اپنی تیل کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے انتظامات کے تحت ٹرافیگورا اور وٹول کمپنیوں کے ذریعے بیچ رہی ہے۔ اخبار نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ روبیو کی ٹیم پابندیوں سے استثنیٰ کے لائسنس تیار کرتی ہے اور دوسرے ملکوں کے ساتھ وینزویلا کے اقتصادی تعاون کی حدود کا تعین کرتی ہے۔ اس میں روس کے ساتھ اس کے تعاون کو کم کرنا بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عبوری حکومت نے متعدد سکیورٹی معاملات پر امریکہ کے ساتھ تعاون کیا ہے جس میں وینزویلا کے کاروباری شخصیت الیکس ساب کی شہریت واپس لینے کے بعد ان کی حوالگی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایسی انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنا بھی شامل ہے جس نے امریکی افواج کو گزشتہ جون کے دوران جنوبی وینزویلا میں "ٹرین ڈی اراگوا" گینگ کے ایک رہنما کو ہلاک کرنے میں مدد کی۔ رپورٹ میں اشارہ کیا گیا کہ گزشتہ ماہ وینزویلا میں آنے والے دو زلزلوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو تقریباً 900 امریکی فوجی بھیجنے اور تقریباً 400 میلیون ڈالر کی امداد فراہم کرنے پر مجبور کیا۔ اس کے علاوہ عبوری حکومت کی مدد کے لیے نقد رقم کی ترسیل بھی کی گئی۔ اگرچہ قدرتی آفت نے سیاسی منتقلی کے لیے واشنگٹن کے منصوبے کو متاثر کیا ہے لیکن رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ اب بھی وینزویلا کے استحکام کو تیل کے ایسے بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری سمجھتی ہے جس سے امریکی مفادات کو فائدہ پہنچے۔ رپورٹ نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ انتظامیہ کے اس ماڈل نے امریکہ کے اندر تنقید بھی پیدا کی ہےجہاں مخالفین ٹرمپ انتظامیہ پر وینزویلا کے وسائل کا استحصال کرنے اور سابقہ نظام کی سرکردہ شخصیات کو اقتدار میں برقرار رکھنے کا الزام لگا رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ایک خودمختار ریاست کے اثاثوں پر واشنگٹن کے کنٹرول کے حوالے سے قانونی سوالات بھی اٹھا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جمہوری منتقلی اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کا ٹائم فریم اب بھی غیر واضح ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عبوری حکومت ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے خاتمے تک انتخابی عمل کو مؤخر کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے حتمی فیصلہ اب صرف وینزویلا کی حکومت کے ہاتھ میں نہیں رہا بلکہ یہ کافی حد تک امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے فیصلے سے وابستہ ہو چکا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments