ماﺅ نواز رہنما اسیم منڈل عرف آکاش گرفتار، ان کی سر کی قیمت ایک کروڑ روپئے تھی
چار دہائیوں کا خاتمہ۔ بنگال، جھارکھنڈ اور اوڈیشہ کی پولیس کے لیے خوف کی علامت بنے ہوئے سی پی آئی (ماو¿ نواز) کے واحد فعال رکن کو چار دہائیوں بعد اسی بنگال میں گرفتار کر لیا گیا۔ ایک سابق شناسا شخص سے سفر کے اخراجات لینے کے لیے جاتے ہوئے کولکاتا ٹاسک فورس کے جال میں پھنس گئے۔ گرفتار کیے گئے ماو¿ نواز رہنما کا نام اسیم منڈل عرف آکاش، عرف تمیر، عرف منوج ہے۔ ان کے سر کی قیمت 1 کروڑ روپے رکھی گئی تھی۔ آکاش کی گرفتاری کو پولیس کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، جمعرات کی صبح مشرقی مدنی پور ضلع کے پٹاش پور علاقے میں کسی مقام سے انہیں گرفتار کیا گیا۔ ان کے پاس سے دو بیگ برآمد ہوئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان میں ماو¿ نواز تحریک سے متعلق کتابیں، کتابچے اور الیکٹرانک آلات موجود تھے۔ تاہم، اب تک ریاستی پولیس کی جانب سے باضابطہ طور پر کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔
مغربی مدنی پور ضلع کے چندرکونا تھانہ علاقے کے پھول چک کے رہنے والے اسیم منڈل 1980 کی دہائی میں طالب علمی کے زمانے سے ہی انتہائی بائیں بازو کی سرگرمیوں سے وابستہ ہو گئے تھے۔ بعد میں وہ پی ڈبلیو جی کے رکن بنے۔ اس دوران انہوں نے بنگال کے سارینگا اور گوئالتوڑ کے علاوہ پڑوسی ریاست جھارکھنڈ کے مشرقی سنگھ بھوم ضلع کے گڑابندہ علاقے میں بھی طویل عرصے تک تنظیمی کام کیا۔
21 ستمبر 2004 کو سی پی آئی (ماو¿ نواز) کے قیام کے بعد وہ جنگل محل واپس آئے اور پوری سرگرمی کے ساتھ کام شروع کیا۔ لال گڑھ تحریک میں بھی ان کا اہم کردار تھا۔ اسی وجہ سے 2010 میں انہیں مغربی بنگال ریاستی کمیٹی کا سیکریٹری بنایا گیا۔ اس کے علاوہ بنگال، جھارکھنڈ اور اوڈیشہ ریجنل کمیٹی میں بھی ان کے پاس اہم ذمہ داری تھی۔ تاہم کشن جی کی موت کے بعد وہ دوبارہ تنظیم کو مضبوط نہیں کر سکے۔
اس کے بعد انہوں نے جنگل محل سے جھارکھنڈ میں روپوشی اختیار کر لی۔ تقریباً 15 سال بعد ساتھیوں کے ساتھ واپس آنے کے دوران 4 اگست کو جھارکھنڈ پولیس نے تین افراد کو گرفتار کیا، جبکہ ایک شخص نے خودسپردگی کر دی۔ اس کے بعد بنگال بریگیڈ کی عسکری تنظیم کو انہوں نے خود ختم کر دیا۔
ماﺅ نواز رہنما اسیم منڈل عرف آکاش گرفتار، ان کی سر کی قیمت ایک کروڑ روپئے تھی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments