International

مالی : القاعدہ تنظیم کے حملوں میں وزیر دفاع سادیو کامارا ہلاک

مالی : القاعدہ تنظیم کے حملوں میں وزیر دفاع سادیو کامارا ہلاک

مالی کے وزیر دفاع جنرل ساديو کامارا باماکو کے قریب مسلح گروہوں کے حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی "فرانس پریس" کے مطابق حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے میں وزیر دفاع کے خاندان کے افراد بھی ان کے ساتھ مارے گئے۔ اخبار "جون افریک" کے مطابق یہ حملہ تنظیم "نصرت الاسلام والمسلمین" (مالی میں القاعدہ کی شاخ) نے ایک خودکش کار بم دھماکے کے ذریعے کیا، جس کے نتیجے میں وزیر دفاع کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اگرچہ حکام نے پہلے ان کی سلامتی کا دعویٰ کیا تھا، تاہم اب تک ان کی ہلاکت کی با ضابطہ تصدیق جاری نہیں کی گئی۔ دوسری جانب اتوار کے روز شمالی مالی کے شہر کيدال میں باغیوں اور "روسی کرائے کے فوجیوں" کی مدد یافتہ سرکاری افواج کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔ باغیوں کے ترجمان نے بتایا کہ وہ کیمپوں میں پناہ لینے والے آخری روسی جنگجوؤں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور افریقی یونین نے مالی میں ہونے والے ان پُر تشدد حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ گوتریس نے ساحل کے خطے میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مربوط عالمی تعاون پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دارالحکومت باماکو کے ہوائی اڈے سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بیک وقت پیچیدہ حملے کیے گئے ہیں۔ شدت پسندوں اور علیحدگی پسندوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے باماکو اور دیگر شہروں میں حالیہ برسوں کا سب سے بڑا مربوط حملہ کیا ہے۔ سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی گئی تاہم 16 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ مالی کی فوج کا کہنا ہے کہ صورت حال کنٹرول میں ہے، اگرچہ دارالحکومت میں اب بھی فائرنگ کی آوازیں سنی جا رہی ہیں اور ہیلی کاپٹر فضا میں گشت کر رہے ہیں۔ تنظیم "نصرت الاسلام والمسلمین" نے باماکو ایئرپورٹ اور چار دیگر شہروں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں طوارق علیحدگی پسند گروہ "ازواد لبریشن فرنٹ" کے ساتھ مل کر کی گئی ہیں۔ مالی کی فوج ان حملہ آوروں کے خاتمے کے لیے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments