لبنان کے صدر جوزف عون نے جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے خدمات انجام دینے والے فرانسیسی فوج کے دستے پر حملے اور اس میں ہونے والی اہلکار کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔ اس سے قبل فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے سنیچر کے روز ہونے والے حملے کے نتیجے میں دوسرے فرانسیسی شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، جس کا الزام انھوں ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ پر عائد کیا۔ تاہم حزب اللہ کی جانب سے اس حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ صدر عون کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں انھوں نے اس واقعے کی دوبارہ مذمت کرتے ہوئے فرانس اور یونیفل یعنی اقوامِ متحدہ کی عبوری فورس برائے لبنان کی قیادت سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ لبنان میں قیامِ امن کے لیے یہ فورس سنہ 1978 میں اقوامِ متحدہ نے قائم کی تھی۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی