International

لبنان سے متعلق ایرانی دعوے جے ڈی وینس کے دورے کے التوا کی وجہ بنے: ایکسیئس

لبنان سے متعلق ایرانی دعوے جے ڈی وینس کے دورے کے التوا کی وجہ بنے: ایکسیئس

لبنان کی صورتحال سے متعلق ایرانی دعوے ان وجوہات میں سے ایک تھے جن کی بنا پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ میں ایرانی مذاکرات کاروں سے ملاقات کے لیے اپنا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا۔ اے ایف پی کے مطابق ایکسیئس کے ایک رپورٹر باراک راوید نے اس بارے میں جمعے کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا۔ یہ دورہ جمعے کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کے نفاذ پر بات چیت شروع کرنے کے لیے ہونا تھا۔ باراک راوید نے سوشل میڈیا پر پوسٹ میں کہا کہ ’ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے مجھے بتایا کہ دورے کو ملتوی کرنے کی ایک وجہ لبنان کی صورتحال کے بارے میں ایرانی دعوے ہو سکتے ہیں۔‘ سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان کے مطابق جمعے کو سوئٹزرلینڈ کے برجن اسٹاک پہاڑی ریزورٹ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے طے شدہ مذاکرات اب نہیں ہوں گے۔ بدھ کو صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں حریفوں کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام سمیت وسیع تر مسائل پر بات چیت کے لیے 60 دن کی مدت کا آغاز ہوا تھا۔ لیکن اگلے اقدامات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال موجود تھی اور ایسا لگتا تھا کہ دونوں فریقین جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کی تقریب اور مذاکرات کا انعقاد کریں گے جیسا کہ پہلے اعلان کیا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے جمعرات کی رات دیر گئے کہا ’ان مذاکرات کی لاجسٹکس (انتظامات) کبھی بھی سادہ یا قابلِ پیش گوئی نہیں رہیں۔ فی الحال نائب صدر آج رات روانہ نہیں ہو رہے ہیں۔ ہم جلد از جلد تکنیکی بات چیت شروع کرنے کے منتظر ہیں۔‘ ایران میں تسنیم ایجنسی نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے لیے ایرانی وفد کے دورے کے بارے میں ’کچھ بھی تصدیق شدہ نہیں‘ ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای جو 28 فروری کو جنگ کے پہلے دن ایک فضائی حملے میں اپنے والد اور ایران کے دیرینہ حکمران علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سپریم لیڈر بنے، انہوں نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ انہوں نے ’مختلف نقطہ نظر‘ رکھنے کے باوجود اس معاہدے کی منظوری دی ہے، تاہم انہوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا ’لیکن میں نے یہ اجازت مسعود پزشکیان سمیت عہدیداروں کی جانب سے ’ایرانی قوم کے حقوق کے تحفظ‘ کے عزم کی وجہ سے دی ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے ساتھ ’آمنے سامنے مذاکرات‘ مستقبل میں ہوں گے لیکن اس کا مطلب ’دشمن کے نقطہ نظر کو قبول کرنا‘ نہیں ہے۔ جمعے کو ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف متنبہ کرتے ہوئے کہا ’کسی بھی بدسلوکی، معاہدے کی خلاف ورزی اور دوسری طرف سے زیادتی کی صورت میں، ہمیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دشمن کو فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔‘

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments