International

لبنان میں فرانسیسی فوجی کی ہلاکت ، ماکروں نے حزب اللہ کو ذمے دار ٹھہرا دیا

لبنان میں فرانسیسی فوجی کی ہلاکت ، ماکروں نے حزب اللہ کو ذمے دار ٹھہرا دیا

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے اعلان کیا ہے کہ ہفتے کے روز جنوبی لبنان میں امن دستوں پر ہونے والے ایک حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ "تمام شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ اس کی ذمے داری حزب اللہ پر عائد ہوتی ہے"۔ ماکروں نے آج سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ فرانس، لبنان میں امن کے لیے کوشاں اپنے تمام فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "تمام اشارے یہی بتاتے ہیں کہ اس حملے کی ذمہ داری حزب اللہ پر ہے"۔ انہوں نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا "فرانس لبنانی حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مجرموں کو فوری طور پر گرفتار کریں اور لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونيفیل) کے ساتھ مل کر اپنی ذمہ داریاں پوری کریں"۔ دوسری جانب فرانسیسی وزیرِ دفاع کیتھرین فوٹران نے بتایا کہ یونيفیل فورس میں شامل فرانسیسی امن دستے کا اہل کار جنوبی لبنان میں ایک "گھات" میں پھنس گیا تھا اور "براہِ راست فائرنگ" کی زد میں آکر ہلاک ہوا۔ فوٹران نے اپنی پوسٹ میں وضاحت کی کہ سارجنٹ فرسٹ کلاس فلورین مونٹوریو ایک ایسے راستے کو کھولنے کی مہم پر تھے جو علاقے میں جاری لڑائی کی وجہ سے کئی دنوں سے بند تھا اور یونيفیل کی ایک چوکی الگ تھلگ ہو چکی تھی۔ اسی دوران ایک مسلح گروہ نے انتہائی قریب سے ان پر حملہ کیا۔ وہ چھوٹے ہتھیاروں سے کی جانے والی براہِ راست فائرنگ کی زد میں آکر فوری طور پر زخمی ہوئے، ان کے ساتھیوں نے فائرنگ کے تبادلے کے دوران انہیں وہاں سے نکالا، لیکن ان کی جان نہ بچائی جا سکی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments