بیروت (23 اپریل ): جنوبی لبنان میں ایک مہلک اسرائیلی فضائی حملے میں لبنانی صحافی امال خلیل شہید ہو گئیں جب کہ ایک اور خاتون صحافی زینب فرج زخمی ہو گئی ہیں۔ لبنانی حکام کے مطابق بدھ کے روز جنوبی لبنان میں ایک اسرائیل نے ایک فضائی حملے میں لبنانی صحافی امال خلیل کو قتل کر دیا، جب کہ ایک اور صحافی شدید زخمی ہو گئی ہیں۔ لبنان کے اخبار ’الاخبار‘ سے وابستہ اَمال خلیل اپنی صحافتی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے شہید ہوئیں، لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کے مطابق مارچ کے بعد سے لبنان میں اسرائیل کے ہاتھوں ماری جانے والی وہ چوتھی میڈیا کارکن ہیں۔ لبنانی سرکاری میڈیا اور وزارتِ صحت نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی حملوں میں ایک اور صحافی، زینب فرج، اس وقت زخمی ہوئیں جب امدادی کارکن ملبے تلے دبی امال خلیل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لبنانی حکام کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان کے قصبے طیري پر حملہ کیا اور عارضی طور پر امدادی ٹیموں کو لوگوں کو بچانے سے روکے رکھا۔ واضح رہے کہ امال خلیل کا ادارہ، الاخبار، بائیں بازو کا جھکاؤ رکھنے والا اور حزب اللہ کا حامی اخبار ہے، ان کی لاش عمارت کے ملبے سے ملی۔ این این اے کے مطابق اسی علاقے میں ہونے والے متعدد حملوں میں سے ایک اس فضائی حملے میں ضلع نبطیہ میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔ لبنانی ریڈ کراس کے اہلکار زینب فرج کو نکال کر تبنین کے ایک اسپتال منتقل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق، صحافی پہلے حملے کے بعد قریبی گھر میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ وزارت نے مزید بتایا کہ ان حملوں میں دو دیگر افراد بھی جاں بحق ہوئے۔ لبنانی وزیر اعظم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کا صحافیوں کو نشانہ بنانا اور امدادی ٹیموں کی رسائی میں رکاوٹیں ڈالنا جنگی جرائم ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا کہ حملوں کے نتیجے میں 2 صحافی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم اس نے اصرار کیا کہ وہ امدادی ٹیموں کو علاقے تک رسائی سے نہیں روک رہی۔ فوج نے مزید کہا کہ واقعے کی تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق، جنوبی لبنان میں اس کی فورسز نے دو گاڑیوں کو ایک ’فوجی تنصیب‘ سے آتے دیکھا، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ اسے حزب اللہ استعمال کرتی تھی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ان گاڑیوں میں موجود ’دہشت گرد‘ دھمکی آمیز انداز میں فوج کے قریب آئے، جس پر فوج نے ایک گاڑی اور اس عمارت کو نشانہ بنایا جہاں سے وہ افراد نکل کر بھاگے تھے۔ سی این این اس بات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا کہ وہ افراد کون تھے۔ یہ حملے اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک نازک جنگ بندی کے دوران ہوئے، جو گزشتہ جمعے سے نافذ ہے تاکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی کو روکا جا سکے۔ ان حملوں پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جن میں اقوام متحدہ اور صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی جیسے ادارے شامل ہیں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی