کانگریس کے صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے آج کیرالہ کے ضلع اڈوکی میں عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز ایسٹر کی مبارکباد سے کیا اور اسٹیج پر موجود رہنماؤں اور کارکنان کا ذکر کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔ خاص طور پر انہوں نے سیتھا کّا کو ایک محنتی اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار خاتون قرار دیا، جو جنگلاتی علاقوں میں جا کر غریبوں کی مدد کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ ہمیشہ ترقی پسند نظریات، سماجی انصاف اور تعلیم کا مرکز رہا ہے، مگر آج سوال یہ ہے کہ کیا ریاست آگے بڑھ رہی ہے یا پیچھے جا رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں پنرائی وجین کی قیادت والی ایل ڈی ایف حکومت نے وعدے تو بہت کیے، مگر عوام کو حقیقی فائدہ نہیں پہنچایا۔ کھڑگے نے الزام لگایا کہ ایل ڈی ایف حکومت بدعنوانی کے کئی اسکینڈلز میں گھری ہوئی ہے۔ سونے کی اسمگلنگ کیس، لائف مشن ہاؤسنگ اسکیم، سبرملا سونا چوری اور کوچین منرلز مالی معاملہ جیسے واقعات نے حکومت کی شفافیت پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت طاقتور افراد کو بچا رہی ہے جبکہ عام شہریوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ 2016 میں ریاست کا قرض 1.57 لاکھ کروڑ روپے تھا، جو اب بڑھ کر تقریباً 6 لاکھ کروڑ روپے ہو چکا ہے۔ کسان، ماہی گیر اور چھوٹے تاجر خود کو بے سہارا محسوس کر رہے ہیں۔ فلاحی اسکیمیں یا تو تاخیر کا شکار ہیں یا مؤثر طریقے سے نافذ نہیں ہو رہیں۔ کھڑگے نے نوجوانوں کی بے روزگاری کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق 15 سے 29 سال کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 30 فیصد ہے، جو قومی اوسط سے تین گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار کی تلاش میں ریاست چھوڑنی پڑ رہی ہے، جو حکومت کی ناکامی ہے۔ انہوں نے بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد اور خراب ہوتی امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ کیرالہ کی پرامن شناخت خطرے میں ہے۔ کھڑگے نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور لیفٹ درپردہ مل کر کانگریس کو اقتدار سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی اور پنرائی وجین کا طرز حکمرانی ایک جیسا ہے، دونوں اقتدار کو مرکزیت دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایف سی آر اے ترمیمی بل 2026 کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ اصلاح نہیں بلکہ عیسائی اداروں، این جی اوز اور سماجی تنظیموں پر حملہ ہے۔ ان کے مطابق جیسے وقف ترمیمی قانون سے مسلمانوں میں خدشات پیدا ہوئے، ویسے ہی یہ قانون عیسائی برادری میں خوف پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائے اور الائچی کے باغات میں کام کرنے والے مزدور شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ کئی باغات بند ہو رہے ہیں اور مزدوروں کو بنیادی سہولیات بھی نہیں مل رہیں۔ کانگریس نے بہتر اجرت اور سہولیات دینے کا وعدہ کیا۔ کھڑگے نے کہا کہ ہزاروں خاندانوں کو اب تک زمین کے مالکانہ حقوق نہیں ملے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ زمین کے حقوق آسان بنائے جائیں گے۔ جنگلی ہاتھیوں اور سوروں کے حملوں سے کسان خوفزدہ ہیں، جس کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے صحت کے نظام کو بہتر بنانے اور سیاحت کو فروغ دینے کا بھی وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور یو ڈی ایف حکومتوں کے دور میں کیرالہ میں تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا گیا۔ قومی سطح پر منموہن سنگھ کی قیادت میں ملک نے معاشی ترقی اور فلاحی اسکیموں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جیسے منریگا، تعلیم کا حق اور فوڈ سکیورٹی قانون۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع