International

خطبہ حج میں امام الحذیفی کی مسلمانوں کے حالات میں بہتری اور یکجہتی کے لیےدعائیں

خطبہ حج میں امام الحذیفی کی مسلمانوں کے حالات میں بہتری اور یکجہتی کے لیےدعائیں

مسجد نبویؐ کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے میدان عرفات کی مسجد نمرہ میں خطبہ حج کی سعادت حاصل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تقویٰ اختیار کرنا ایمان والوں کی شان ہے، اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو، اپنے عہد کی پاسداری کرو۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیامت کا زلزلہ انتہائی شدید ہے جبکہ آخرت کی سب سے بڑی کامیابی توحید ہے۔ جو لوگ شرک و کفر کرتے ہیں وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ شیخ کا مزید کہنا تھا جو اللہ سے ڈرتا ہے، اُس کے لیے اللہ نے دُہری جنت رکھی ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نے ابراہیمؑ کو کہا حج کے لیے منادی کریں اور اللہ تعالیٰ دور دراز تک یہ آواز پہنچائیں گے۔ دور دراز سے لوگ حج کے لیے آئے ہیں تاکہ دنیا و اخرت میں وہ کامیاب ہوں۔ یہاں جھگڑا نہیں کرنا اور گناہ نہیں کرنا اور تمام چیزیں جن کا وعدہ اللہ نے کیا اُنہیں پورا کیا جائے۔ اور جو بھی شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے یہ تقویٰ کی نشانی ہے۔ ڈاکٹر شیخ علی الحذیفی نے کہا کہ ہمیشہ سچ بولیں اور غلط بیانی سے گریز کریں، بدعت اور غیبت سے دور رہو، حجاج عرفات سے فارغ ہونے کے بعد منیٰ تشریف لے جائیں گے، حجاج کرام مناسک بہترین انداز میں ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ حجاج کرام ہر لمحہ مغفرت کی دعا کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور عبادات میں مصروف رہیں، نماز قائم کریں، اللہ تعالیٰ ہی دعائیں قبول کرنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے مختلف رنگوں کے لوگ یہاں آئے ہیں جو اللہ کی طرف سے ایک بڑا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں میں حاجیوں پر فخر کر رہا ہے جو آج جمع ہوئے اور عبادات کیں۔ انہوں نے کہا عازمین حج یہاں عرفات میں قیام کریں گے پھر اگلے دن مزدلفہ جائیں گے جس کے بعد عازمین حج منی میں تشریف لے کر جائیں گے۔ اور منیٰ میں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا ہے۔ آپ یہاں منی میں رہتے ہوئے 11، 12 کی راتیں گزاریں گے اور اپنے گھروں کو لوٹنے سے پہلے طواف کریں گے۔ انہوں نے آخر میں دعا کی کہ یا اللہ تمام عازمین کو بہ حفاظت اور سلامتی کے ساتھ واپس اپنے گھروں کو لوٹا اور ان کے دلوں میں حق کو جمع کر دے اور ان کے حج کے تمام مناسک کو قبول فرما۔ خطبے کے بعد حجاج نے سنتِ نبوی کے مطابق ظہر اور عصر کی نمازیں جمع اور قصر کر کے ادا کیں۔ اس سے قبل دنیا بھر سے سعودی عرب آئے ہوئے لاکھوں عازمین حج منیٰ میں رات قیام کے بعد منگل کو میدان عرفات میں حج کے سب سے مقدس اور مرکزی رکن وقوفِ عرفہ لیے جمع ہوئے تھے۔ میدانِ عرفات کی حدوود میں طلوعِ آفتاب سے اب تک اندازً 16 لاکھ عبادت گزاروں کا ہجوم موجود ہے۔ عازمین کی زبانوں پر لبیک کے ساتھ ساتھ تسبیح و تمجید ہے، ہاتھ دعاؤں کے لیے بلند ہیں اور یومِ عرفہ پر حج کے اِس اہم ترین رُکن کی ادائیگی کے دوران بے شمار آنکھیں بھیگی ہوئی ہیں۔ غروب آفتاب کے بعد حجاج مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں وہ مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے جبکہ اگلے مرحلے میں منیٰ میں رمی جمرات ادا کی جائے گی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments