National

خطاب پر بحث: اپوزیشن نے مہنگائی، بے روزگاری، منی پور جیسے مسائل اٹھائے

نئی دہلی، 5 فروری : صدر جمہوریہ کے خطاب پر لوک سبھا میں دوسرے دن پیر کی بحث میں اپوزیشن ارکان نے حکومت پر مہنگائی اور بے روزگاری جیسے عام لوگوں سے جڑے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ غریبی کم ہونے کے حکومت کے دعوے میں کوئی دم نہیں ہے۔ ترنمول کانگریس کی شتابدی رائے نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ صدر کے خطاب میں مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں کو کم سے کم امدادی قیمت کی ضمانت اور منی پور کی صورتحال کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اجولا اسکیم کے تحت غریب لوگوں کو کھانا پکانے کے گیس کنکشن تو دیئے گئے ہیں، لیکن حکومت کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ کتنے لوگ اپنے گیس سلنڈر کو دوبارہ بھرنے کے قابل ہیں۔ محترمہ رائے نے کہا کہ حکومت نے اڑان اسکیم کے ذریعے چپل پہننے والوں کو ہوائی سفر کی سہولت فراہم کرنے کے دعوے کیے تھے، لیکن آج ہوائی سفر کے کرایوں میں اتنا اضافہ ہو گیا ہے کہ غریب اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ شرومنی اکالی دل کی ہرسمرت کور نے کہا کہ اچھے دن آنے کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں لیکن کسانوں، خواتین، غریبوں اور بے روزگاروں کے لیے واقعی کیا اچھے دن آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہر دوسرا نوجوان بے روزگار ہے۔ طلباء کی ایک بڑی تعداد بہتر تعلیم کے لیے ملک سے باہر جانے پر مجبور ہے۔ مفت اناج اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب 80 کروڑ لوگ راشن کے لیے حکومت پر منحصر ہیں تو پھر اچھے دنوں کا کیا مطلب ہے؟ سابق مرکزی وزیر ہرسمرت کور، جو پنجاب کے بھٹنڈہ لوک سبھا حلقہ کی نمائندگی کرتی ہیں، نے پاکستان کی طرف سے پنجاب میں ڈرون کے ذریعے ہتھیاروں اور منشیات کی اسمگلنگ کے مسئلہ پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کے خلاف ٹھوس کارروائی کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے نوجوان منشیات کی لت کا شکار ہو رہے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی حصولیایباں اپنی جگہ ہیں لیکن انہیں بار بار گنانے کے بجائے موجودہ مسائل اور چیلنجز پر توجہ دی جانی چاہیے۔ کانگریس کے بینی بہنن نے کہا کہ مودی کی گارنٹی کی بات تو بہت کی جاتی ہے لیکن ملک میں بے روزگاری کی وجہ سے حالات خراب ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ منی پور کے لوگوں کے لیے مودی کی گارنٹی کا کیا مطلب ہے؟ مسٹر بیہنن نے کہا کہ لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے آج بحث کا آغاز کرتے ہوئے شیو سینا کے مسٹر رنگ اپا بارنے نے کہا کہ مودی حکومت کے 10 سال غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف رہے ہیں۔ ملک کے عوام کو اس حکومت سے بہت امیدیں ہیں اور یہ عوام کی امنگوں پر پورا اتری ہے۔ ہر گاؤں کو سڑکوں اور انٹرنیٹ سے جوڑا گیا ہے۔ بے گھر افراد کو گھر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ نوجوانوں کو مشن موڈ پر نوکریاں دی جارہی ہیں۔ مودی حکومت کے کاموں سے ملک کے لوگوں کا اعتماد بڑھا ہے۔ مسٹربارنے نے کہا کہ جی-20 کانفرنس کے بعد ہندوستان کی شبیہ مزید روشن ہوئی ہے۔ ہندوستان چندریان کو چاند کے جنوبی قطب پر اتارنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ اجودھیا میں رام مندر بنوایاگیا ہے۔ ون رینک ون پنشن کا برسوں پرانا مطالبہ پورا ہو گیا ہے۔ آیوشمان یوجنا سے کروڑوں لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ستیہ پال سنگھ نے کہا کہ صدر کا خطاب مودی حکومت کے پروگراموں کا ریفرنس ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی کے تحت مادری زبان کو ترجیح دی گئی ہے۔ رام مندر تعمیر کیاگیا ہے۔ غلامی کی تمام نشانیوں کو ختم کیاجارہا ہے۔ مسٹرسنگھ نے کہا کہ آئین میں درج 'انڈیا دیٹ از بھارت' کو ہٹا کر بھارت لکھا جانا چاہیے۔ ملک کا نام بھارت ہی ہونا چاہیے۔ جنتا دل (یو) کے آلوک کمار سمن نے بہار کے لیے گرانٹ کی بقایا رقم کو جلد جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ریاست کی مجموعی ترقی ممکن ہوگی۔ انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ کرپوری ٹھاکر کو بھارت رتن سے نوازنے کا اعلان کرنے پر مودی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے پی پی چودھری نے کہا کہ مودی حکومت کے دور میں تعلیم کے میدان میں انقلابی تبدیلی آئی ہے۔ ملک میں میڈیکل کالجوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی سے ہر طبقے کے طلباء طب، قانون، انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر کے ملک کا نام روشن کر سکیں گے۔

Source: uni news

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best
Good
Okay
Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments