امریکی وزیر جنگ ( وزیر دفاع ) پیٹ ہیگستھ ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے سماعت کے دوران کانگریس میں ڈیموکریٹک قانون سازوں کے ساتھ براہِ راست آمنے سامنے آگئے۔ انہوں نے امریکی فوجی کارروائیوں کا بھرپور دفاع کیا اور ڈیموکریٹک پارٹی کے ناقدین کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ بحث کے دوران پیٹ ہیگستھ نے فوجی کارروائیوں پر ڈیموکریٹس کی تنقید کو لاپرواہی پر مبنی اور غیر موثر قرار دیا۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا جن میں اس جنگ کو امریکہ کے لیے ایک نئی دلدل بننے سے تعبیر کیا گیا تھا۔ یہ آمنا سامنا اس وقت ہوا جب ڈیموکریٹک نمائندے جان گیرامینڈی نے ایران میں امریکی فوجی مداخلت کو ان طویل جنگوں سے تشبیہ دی جنہوں نے مشرق وسطیٰ میں واشنگٹن کو نچوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اس بیان پر وزیر جنگ نے سخت ردعمل دیا۔ پیٹ ہیگستھ نے سیشن کے دوران کہا کہ میری نسل نے عراق اور افغانستان میں ایک حقیقی دلدل میں خدمات انجام دی ہیں، آپ کو اس سے بہتر معلوم ہونا چاہیے۔ آپ کے لیے شرم کی بات ہے کہ صرف دو ماہ بعد اس جنگ کو دلدل قرار دے رہے ہیں۔ وزیر جنگ نے کہا کہ موجودہ فوجی کارروائیاں پچھلی جنگوں سے یکسر مختلف ہیں ۔ امریکی حکمت عملی مرکوز حملوں اور واضح اہداف پر مبنی ہے تاکہ ایران کو علاقائی سلامتی اور امریکی مفادات کو خطرے میں ڈالنے سے روکا جا سکے۔ کانگریس میں یہ گرما گرم بحث واشنگٹن میں جنگ کے انتظام کے حوالے سے بڑھتے ہوئے سیاسی تقسیم کی عکاسی کر رہی ہے۔ ڈیموکریٹس امریکہ کے ایک طویل المدتی تنازع میں پھنسنے کی وارننگ دے رہے ہیں جبکہ دفاعی انتظامیہ اس بات پر اصرار کر رہی ہے کہ کارروائیاں وقت اور فوجی لحاظ سے محدود منصوبے کے مطابق چل رہی ہیں۔ اسی دوران ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ سینٹ کام کے سربراہ بریڈ کوپر سمیت امریکہ کے اعلیٰ فوجی حکام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کے حوالے سے بریفنگ دیں گے۔ رائٹرز نے عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین ڈین کین بھی اس بریفنگ میں حصہ لیں گے۔ عہدیدارنے زیرِ بحث آنے والے اختیارات کی وسعت کو ظاہر نہیں کیا لیکن یہ بتایا کہ بریفنگ کا محور ان اقدامات پر ہوگا جو ایران کو تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ضروری ہیں۔ نیوز ویب سائٹ ’’ ایکسیس ‘‘ نے کہا ہے کہ سینٹ کام نے ایران پر حملوں کی ایک مختصر اور طاقتور لہر شروع کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے جس میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا شامل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کے ایک حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے تاکہ اسے تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولا جا سکے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی