سینئر ایرانی قانون ساز و پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر علی نیکزاد نے کہا ہے کہ تہران نے خیرسگالی کے طور پر 450 کلو گرام افزودہ یورینیئم کو کم درجے تک لانے پر رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم امریکا اس معاہدے سے پیچھے ہٹ گیا۔ ایرانی میڈیا ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر علی نیکزاد نے گزشتہ روز امریکا سے معاہدہ نہ ہونے پر ردِعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کی شراکت سے یورینیئم کی تطہیر کے لیے ایران کے اندر ایک کنسورشیئم تشکیل دیا جانا تھا، مگر بعد ازاں امریکا نے یہ معاہدہ ختم کر دیا۔ علی نیکزاد نے مزید کہا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کے لیے ایک قانونی نظام تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی تھی، جس میں امریکی کردار شامل ہوتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں امریکا کا کوئی کام نہیں ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی