وہ لمحہ جب آخری حاجی مناسک ادا کرنے کے بعد اپنے ملک کی طرف روانہ ہو کر مشاعر مقدسہ کو خیرباد کہتا ہے، اسی لمحے سعودی عرب اگلے حج سیزن کی تیاریاں پہلے ہی شروع کر چکا ہوتا ہے۔ سعودی عرب میں حج کی کامیابی کو ایک اختتامی مرحلے کے بجائے منصوبہ بندی اور ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔ سعودی عرب ضیوف الرحمن ( اللہ کے مہمانوں ) کی خدمت کے لیے سال بہ سال نئے ہونے والے ایک مربوط ورک سسٹم کے تحت کام کرتا ہے۔ سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے 1447 ہجری کے حج سیزن کے منصوبے کی کامیابی کے اعلان کے ساتھ ہی ایک ایسے عظیم الشان قومی نظام کی تصویر واضح ہو کر سامنے آتی ہے جس نے حجاج کرام کے اپنے ملک سے روانگی سے لے کر واپسی تک حج کے سفر کو محفوظ بنانے کے لیے طویل مہینوں تک کام کیا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسے مربوط تجربے کے تحت ہوتا ہے جس نے امن و امان، تنظیم، خدمات اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کیا گیا ہوتا ہے۔ سعودی وزارتِ داخلہ کی کوششیں صرف مشاعر مقدسہ کے اندر سیزن کے انتظام تک محدود نہیں رہیں بلکہ یہ "روڈ ٹو مکہ" اقدام کے ذریعے سعودی عرب کی سرحدوں سے باہر تک پھیل گئی ہیں۔ اس اقدامکو آٹھویں سال 10 ممالک اور 17 بین الاقوامی داخلی راستوں پر نافذ کیا گیا۔ اس اقدام کے تحت حجاج کی آمد سے قبل ہی ان کے اپنے ملکوں میں کارروائی مکمل کی گئی جس نے ان کے سفر کو اس کے ابتدائی لمحات ہی سے آسان بنانے میں مدد فراہم کی۔ اسی طرح فضائی، بری اور بحری راستوں نے ایک ایسے مربوط نظام کے تحت ضیوف الرحمن کا استقبال جاری رکھا جس میں علاقوں کی امارات، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پاسپورٹ اور شراکت دار اداروں نے حصہ لیا تاکہ حج کا سفر درست تنظیمی اور حفاظتی اقدامات کے درمیان شروع ہو سکے۔ اس سیزن کے آغاز سے پہلے ہونے والی فوجی پریڈ نے ایک واضح پیغام دیا تھا کہ حجاج کا امن و امان سعودی عرب کے لیے اولین ترجیح ہے اور اللہ کے مہمانوں کی حفاظت ایک قومی ذمہ داری ہے جس میں مختلف سکیورٹی، فوجی اور خدماتی شعبے حصہ لیتے ہیں۔ سکیورٹی اور فیلڈ پلانز نے منیٰ اور عرفات کے مشاعر کی طرف روانگی کے مراحل، پھر مزدلفہ کی طرف رخ اور منیٰ واپسی، جمرات کی رمی اور طوافِ وداع تک لاکھوں حجاج کی نقل و حرکت کے انتظام میں اپنی کامیابی ثابت کی۔ اس دوران کوئی ایک ایسا واقعہ نہیں ہوا جو حجاج کے مناسک ادا کرنے میں خلل ڈالے۔ اس سیزن کے دوران "پرمٹ کے بغیر کوئی حج نہیں" مہم ایک اہم تنظیمی ستون کے طور پر ابھری جس نے نظم و ضبط کو فروغ دینے اور ہجوم کو سنبھالنے میں مدد کی۔ ساتھ ہی آگاہی اور میڈیا کی کوششوں نے بھی مدد کی جن کا نعرہ "حیاکم اللہ" (اللہ آپ کو خوش رکھے) تھا۔ یہ سب کارکردگی کو بڑھانے اور حفاظت اور تنظیم کے اعلیٰ ترین معیار حاصل کرنے کی جانب مملکت کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ حج کے مختلف مراحل نے سکورٹی، صحت اور خدماتی شعبوں کے درمیان ہم آہنگی دیکھی۔ اس حوالے سے جدید ٹیکنالوجی اور سمارٹ سلوشنز کے استعمال سے مدد ملی اور فیلڈ کی کارکردگی کو بڑھانے اور ردعمل کی رفتار کو تیز کرنے میں بھی مدد ملی۔ 1447 ہجری کے اختتام کے باوجود حج سیزن کا اثر ان لاکھوں حجاج کی یادوں میں موجود رہے گا جنہوں نے امن و امان اور اطمینان کے ماحول میں اپنے مناسک ادا کیے اور ان ہزاروں کارکنوں اور رضاکاروں کی یادوں میں بھی رہے گا جنہوں نے ان کی خدمت کے لیے اپنی کوششیں وقف کر دیں۔ اس سیزن کا ڈراپ سین ہونے کے ساتھ ہی سعودی عرب جانچنے، ترقی دینے اور منصوبہ بندی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کر رہا ہے۔ یہ نیا مرحلہ حرمین شریفین اور ضیوف الرحمن کی خدمت کو ایک قومی ترجیح بنانے کے اس نظریے کا تسلسل ہے۔ یہ ایک ایسا تجدید شدہ پیغام ہے جو نسل در نسل اور سال بہ سال منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ