International

حج 2026: طواف الافاضہ کے ساتھ مقدس سفر اپنے اختتام کی جانب گامزن

حج 2026: طواف الافاضہ کے ساتھ مقدس سفر اپنے اختتام کی جانب گامزن

مکہ مکرمہ، سعودی عرب : بدھ کے روز حجاج کرام کے طواف الافاضہ کے ساتھ ہی حج 2026 اپنے اختتام کی جانب بڑھ گیا ہے۔ واضح رہے کہ طواف الافاضہ کعبہ کا لازمی طواف ہوتا ہے۔ یہ حج کا یہ چوتھا رکن ہے اور اسے حجاج کے عرفات میں قیام، مزدلفہ میں رات گزارنے اور رمی جمرات کی رسم ادا کرنے کے بعد ادا کیا جاتا ہے۔ اسی طرح تمام مناسکِ حج ایک ترتیب میں انجام دیے جاتے ہیں۔ اس سے قبل فجر کی نماز ادا کرنے کے فوراً بعد شیطان کو پتھر/کنکری مارنے کی رسم کے لیے لاکھوں حاجیوں کو جمرات کی طرف مارچ کرتے دیکھا گیا۔ واضح رہے کہ جمرات میں شیطان کی علامتی نمائندگی کے طور پر تین دیوار نما ڈھانچے بنائے گئے ہیں۔ زائرین انھیں دیواروں کی طرف کنکریاں پھینکتے ہیں۔ پہلے دن سب سے بڑی دیوار پر سات اور اگلے دو دن تینوں دیواروں پر سات کنکریاں مارتے ہیں۔ بعد ازاں عازمین طواف الافاضہ کرنے کے لیے فوری طور پر مسجد الحرام کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ایام تشریق کے تین دنوں کے دوران رمی جمرات کی رسومات مکمل کرنے کے بعد، عازمین مکہ شہر سے نکلنے سے پہلے 'طواف الوداع' کے نام سے الوداعی طواف کے ساتھ حج کا اختتام کریں گے۔ اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے ایک عازم حج نے کہا کہ "ہمیں کسی بڑی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، باوجود اس کے کہ یہ سفر مشکل ہے کیونکہ بہت سی رسومات چلچلاتی گرمی میں ادا کرنی ہوتی ہیں لیکن ہر ایک عازم اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوتا ہے۔" واضح رہے کہ جمرات وادی منی میں واقع ہے جہاں سے مناسک حج کا آغاز ہوتا ہے۔ حجاج منیٰ میں حج کا آغاز کرنے کے ساتھ ہی پہلی پانچ نمازیں ادا کرتے ہیں۔ بعد ازاں زیادہ تر حجاج کرام نے مزدلفہ میں 9 اور 10 ذی الحج کی درمیانی رات کھلے آسمان تلے گزاری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت کی پیروی کرتے ہوئے دعا و مناجات اور ذکر و اذکار میں غرق رہے۔ بدھ کو صبح ہوتے ہی حجاج کرام نے شیطان کو کنکریاں مارنے کی رسم کے لیے جمرات کی طرف مارچ کرنا شروع کیا۔ یہ رسم عیدالاضحیٰ کے تہوار کے موقعے پر ادا کی جاتی ہے۔ اس موقعے پر حجاج ایک جانور کی قربانی پیش کرتے ہیں، جس کے بعد انہیں احرام کہلانے والے بغیر سلے ہوئے سفید کپڑے کو اتارنے اور عام کپڑے پہننے کی اجازت مل جاتی ہے۔ واضح رہے کہ تمام مرد حجاج احرام باندھتے ہیں اور پورے جسم کو لپیٹنے کے لیے چادر نما دو کپڑوں کا استعمال کرتے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments