بنگالی میں سب سے زیادہ نمبر پانے والوں کو اسکالرشپ کے لیے سابقہ استانی نے اسکول کو ۱ لاکھ روپے عطیہ کیے
ایک دہائی ہو گئی ہے اسکول کی استانی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ لیکن اسکول اور طلباءو طالبات کی ترقی کے لیے ہمیشہ سوچتی رہتی ہیں۔ حال ہی میں بنگالی زبان سے محبت کرتے ہوئے اور سب کو اس زبان میں حوصلہ افزائی کرنے کے لیے بڑا اقدام کیا مشرقی بردھمان کے آوش گرام کی ریٹائرڈ استانی نے۔ طلباءو طالبات کی تعلیم اور اسکول کی ترقی کے لیے ۱ لاکھ روپے عطیہ کیے۔ یہیں ختم نہیں۔ اس رقم سے حاصل ہونے والا منافع وہ بنگالی زبان کی تعلیم کے لیے دینا چاہتی ہیں۔ ہر سال ثانوی اور اعلیٰ ثانوی امتحانات میں اسکول سے جو بنگالی میں سب سے زیادہ نمبر پائے گا، انہیں اسکالرشپ کے طور پر وہ ۱ لاکھ روپے کا منافع دیا جائے گا۔ سابقہ 'دیدی مونی' کے اس اقدام سے اسکول کے پرنسپل سے لے کر طلباءتک سب بہت خوش ہیں۔
اپنے اسکول اور بنگالی زبان کے لیے جس نے اتنا سوچا، اس ریٹائرڈ استانی کا نام کلّیانی بینرجی ہے۔ کلّیانی 'دیدی مونی' کی زندگی بہت منفرد ہے۔ کولکتہ کی رہائشی کلّیانی بینرجی نے کلکتہ یونیورسٹی سے بنگالی میں ماسٹرز کرنے کے بعد قانون کی تعلیم حاصل کی۔ ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کلکتہ ہائی کورٹ میں پریکٹس بھی شروع کی تھی۔ لیکن ان کا دل تعلیم کی طرف تھا۔ چنانچہ گھر میں چھپا کر کولکتہ سے دور بردھمان کے آوش گرام کے ایک اسکول میں تدریسی ملازمت اختیار کی۔ آوش گرام ہائی اسکول میں بنگالی کی استانی کے طور پر کام شروع کیا۔2004 میں ریٹائر ہوئیں۔ ریٹائرمنٹ کی زندگی اچھی گزر رہی تھی میاں بیوی کی۔
بنگالی میں سب سے زیادہ نمبر پانے والوں کو اسکالرشپ کے لیے سابقہ استانی نے اسکول کو ۱ لاکھ روپے عطیہ کیے...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments