International

فلسطینی بچوں کا گاؤں میں پتنگیں اڑا کر یہودی بستیوں کی تعمیر کا مقابلہ

فلسطینی بچوں کا گاؤں میں پتنگیں اڑا کر یہودی بستیوں کی تعمیر کا مقابلہ

اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کے شمالی علاقوں میں فلسطینی بورین کے آسمان پر پتنگیں اڑتی نظر آئی ہیں۔ مغربی کنارے میں صہیونی ریاست کے مظالم کے تناظر میں یہ ایک حیران کر دینے والا منظر تھا۔ فلسطینی بچے سامنے والی پہاڑی پر انہیں کنٹرول کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے اور ان کی آنکھیں آسمان کی طرف لگی ہوئی تھیں۔ ان کے پیچھے 1983 میں قائم ہونے والی اسرائیلی بستی "ہار براخا" دکھائی دے رہی ہے جس کے مکانات نے پہاڑی کی چوٹی کو گھیرا ہوا ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم تمام اسرائیلی بستیوں کی طرح یہ تنصیبات بھی بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی شمار ہوتی ہیں۔ مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضے کی داستان یہودی بستیوں کی صورت میں جگہ جگہ پھیلی ہوئی ہے۔ فلسطین میں پتنگ بازی کی اس تقریب کے منتظمین میں سے ایک غسان نجار کہتے ہیں کہ اس کا مقصد آباد کاروں کو یہ بتانا ہے کہ یہ ہماری زمین ہے، اور یہ ہمارا آسمان ہے اور اگر ہم ان زمینوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں تو ہماری پتنگیں وہاں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بورین پتنگ بازی کا میلہ بنیادی طور پر بچوں کے لیے ہے لیکن یہ ایک "سیاسی پیغام" بھی رکھتا ہے۔ یہ تقریب 2009 میں اس وقت شروع کی گئی تھی جب مقامی باشندے ہار براخا میں بستی کی توسیع کی وجہ سے اس پہاڑی پر زرعی زمینوں تک بتدریج اپنی رسائی ختم ہونے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ 2008 سے اقوام متحدہ کا دفتر برائے رابطہ کاریِ انسانی امور (اوچا) اس علاقے میں آباد کاروں کے حملوں کے بارے میں خبردار کر رہا ہے ۔ بورین کے باشندوں پر فائرنگ کی جاتی ہے یا ان کی زمینوں سے زیتون کے درخت اکھاڑ دیے جاتے ہیں۔ 15 سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد مغربی کنارے کے دیگر حصوں کی طرح میلے میں آنے والوں کے درمیان بات چیت کا محور آباد کاروں کے تشدد کے حالیہ واقعات یا فلسطینی اراضی پر اسرائیلی بستیوں کی توسیع ہے۔ غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اقوام متحدہ نے آباد کاروں سے منسوب پرتشدد کارروائیوں میں شدید اضافے کا بتایا ہے۔ اس کے متوازی طور پر متعدد اسرائیلی وزراء پورے مغربی کنارے یا اس کے کچھ حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ناگپھنی کے درختوں سے بھری پہاڑی کی چوٹی سے نجار کہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کا حق ہے کہ وہ کھیلیں اور اسی طرح ان کا حق ہے کہ وہ ایک حقیقی زندگی گزاریں۔ انہوں نے کہا کہ آج اس پہاڑی کے دامن اس میلے کا پس منظر بنے ہوئے ہیں۔ اس تقریب کی سرگرمیوں میں مسخروں کے شوز شامل ہیں جو بچوں کے چہروں پر پینٹنگ کرتے ہیں۔ اونچی آواز میں موسیقی گونج رہی ہے اور فلسطینی پرچم کے رنگوں والی پتنگیں فضا میں اڑ رہی ہیں ۔ کچھ پتنگیں مصر کے پرچم کے رنگوں والی بھی ہیں جنہیں مصری فٹ بال ٹیم کے اعزاز میں اڑایا گیا ہے۔ مصری ٹیم نے حال ہی میں ورلڈ کپ کے فائنل کے دوران فلسطینیوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔ لیکن یہ میلہ سکیورٹی کی صورتحال سے وابستہ رہتا ہے۔ اجتماع سے پہلے مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یقین دہانی کر لی تھی کہ آس پاس آباد کاروں کا کوئی گروپ موجود نہیں ہے۔ میلے میں شرکت کے دوران 15 سالہ ثناء بشار نجار بتاتی ہیں کہ کبھی کبھی ہم ڈر جاتے ہیں۔ گزشتہ سال ہم نہیں آئے تھے۔ اس وقت آباد کاروں کا حملہ ہوا تھا اور انہوں نے ہمارے گاؤں پر دھاوا بولا تھا۔ ثنا نے مزید کہا کہ ہم زیادہ سے زیادہ آدھا گھنٹہ یا ایک گھنٹہ رکتے ہیں ۔ جنگ اور دیگر تمام حالات جو ہو رہے ہیں۔ تاہم جنگ کے باوجود ہم یہاں خود کو تفریح فراہم کرنے کی غرض سے آتے ہیں۔ وہ یاد دلاتی ہیں کہ معاشی حالات خراب ہیں ۔ انہوں نے میلے کے مفت ہونے کی تعریف بھی کی۔ بورین کے رہائشی قصی ولید عید کہتے ہیں کہ ہر سال اس میلے کے انعقاد کا مقصد اس زمین میں اپنی جڑیں مضبوط کرنا ہے۔ جہاں تک دالیہ زبن کا تعلق ہے، جو اپنی عمر کی تیسری دہائی میں ہیں اور اس گاؤں میں رہتی ہیں جس کی آبادی چند ہزار افراد سے زیادہ نہیں ہے، تو وہ بتاتی ہیں کہ ان کے والدین کا گھر آباد کاروں کے ہاتھوں تخریب کاری کا نشانہ بن چکا ہے۔ دالیہ زبن نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ نہ آئیں اور ہم انہیں نہ دیکھیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments