کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے کہا ہے کہ وہ مستعفی ہونے کے لیے امریکا کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’’مستعفی ہونا ہماری لغت کا حصہ نہیں ہے۔ صدر نے کمیونسٹ حکومت والے کیوبا کو "خود ارادیت” کے حق کے ساتھ ایک "آزاد خود مختار ریاست” قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ یہ جزیرہ "امریکہ کے ڈیزائن کے تابع نہیں ہے”۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا میں جو لوگ قیادت کے عہدوں پر ہیں ان کا انتخاب امریکی حکومت نہیں کرتی۔ واضح رہے کہ 2018 سے صدر کو ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے حکومت کی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور مطالبات کا سامنا ہے۔ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ کیوبا کو وینزویلا اور ایران جیسی قسمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جنوری میں ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کی برطرفی کے بعد کیوبا کو تیل کی اہم سپلائی منقطع کر دی گئی تھی۔ اس کے بعد سے امریکہ نے جزیرے پر تیل کی ناکہ بندی کر دی ہے اور کیوبا کو تیل فروخت کرنے والے کسی بھی ملک پر محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی