International

دوحہ: ایران کو 3 ارب ڈالرز دینے پرعبوری اتفاق

دوحہ: ایران کو 3 ارب ڈالرز دینے پرعبوری اتفاق

دوحہ (02 جولائی 2026): ایران کو دوحہ مذاکرات میں پہلی بڑی کامیابی ملی ہے، امریکا اور ایران نے 3 ارب ڈالر کے فنڈز کے اجرا اور براہِ راست رابطہ ہاٹ لائن پر اتفاق کر لیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری بالواسطہ مذاکرات میں منجمد اثاثوں میں سے ایران کو تین ارب ڈالرز دینے پر عبوری اتفاق کیا گیا ہے، نائب ایرانی وزیرِ خارجہ کاظم غریب ابادی کا کہنا ہے کہ دوحہ میں پاکستانی اور قطری ثالثوں سے گفتگو میں مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیوں پر بات کی گئی اور مفاہمتی چینل قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ قطری حکام کے ساتھ ملاقات میں ایران کے منجمد فنڈز پر بھی بات ہوئی، 6 رب ڈالرز کے منجمد فنڈز کا ایک حصہ ایران کے لیے اشیا ضروریہ خریدنے میں استعمال ہوگا، امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی قطری امیر سے ملاقات ہوئی، جس میں امریکا ایران مذاکرات میں پیش رفت سمیت لبنان جنگ بندی برقرار رکھنے کی اہمیت پر بات کی گئی۔ مذاکرات میں اس پیش رفت کی اطلاع سب سے پہلے علاقائی ذرائع ابلاغ، جن میں العربیہ اور الحدث شامل ہیں، نے دی۔ یہ پیش رفت واشنگٹن اور تہران کے درمیان جون کے وسط میں طے پانے والی 60 روزہ عبوری مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عمل درآمد کے لیے جاری تکنیکی مذاکرات کے دوران سامنے آئی۔ خیال رہے کہ دوحہ میں مذاکرات ’’شٹل ڈپلومیسی‘‘ کے تحت کیے جا رہے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات نہ ہونے اور ایران کی جانب سے بعض عبوری شرائط پوری ہونے تک براہِ راست مذاکرات سے انکار کے باعث دونوں وفود الگ الگ مقامات پر موجود ہیں۔ ایرانی وفد، جس کی قیادت نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کر رہے ہیں اور جس میں مرکزی بینک اور وزارت زراعت کے حکام بھی شامل ہیں، نے پاکستانی ثالثوں سے ملاقات کی، جب کہ امریکی تکنیکی وفد نے قطری ثالثوں سے الگ ملاقاتیں کیں۔ اگرچہ امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر اور وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اعلیٰ سطحی مشاورت کے لیے دوحہ پہنچے اور قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقاتیں کیں، تاہم وہ تکنیکی سطح کے ان مذاکرات میں براہِ راست شریک نہیں ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق جاری کیے جانے والے 3 ارب ڈالر ایران کے منجمد 6 ارب ڈالر کے بڑے فنڈ کا ایک حصہ ہیں۔ یہ رقم ایران کی تیل کی آمدنی تھی جو امریکی پابندیوں کے باعث جنوبی کوریا کے بینکوں میں منجمد رہی، بعد ازاں 2023 میں قطر کے مرکزی بینک کے کھاتوں میں منتقل کی گئی، تاہم خطے میں کشیدگی بڑھنے کے بعد دوبارہ منجمد کر دی گئی۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق یہ رقم تکنیکی مذاکرات میں پیش رفت کے ساتھ مرحلہ وار جاری کی جائے گی۔ ایرانی وفد میں بینکاری اور زرعی شعبے کے ماہرین کی شمولیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فنڈز سخت انسانی بنیادوں پر عائد شرائط کے تحت صرف خوراک، ادویات اور عالمی تجارتی اشیا کی خریداری کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے اس مالی پیش رفت کو نمایاں طور پر اجاگر کیا ہے، جب کہ امریکی حکام نے اس کی تفصیلات محدود رکھتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی مالی رعایت کا انحصار وسیع تر سیکیورٹی معاملات میں عملی پیش رفت پر ہوگا۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments