International

دنیا بھر سے لاکھوں فرزندانِ توحید مکہ مکرمہ پہنچنے لگے، حج 2026 کی روح پرور تیاریاں عروج پر

دنیا بھر سے لاکھوں فرزندانِ توحید مکہ مکرمہ پہنچنے لگے، حج 2026 کی روح پرور تیاریاں عروج پر

جدہ / مکہ مکرمہ:) دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ان دنوں سعودی عرب کے مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا رخ کررہے ہیں، جہاں رواں ہفتہ کے اختتام سے حج 2026 کے بابرکت مناسک کا آغاز ہونے والا ہے۔ فضاؤں میں ’’لبیک اللہم لبیک‘‘ کی صدائیں گونج رہی ہیں اور ہر سمت سفید احرام میں ملبوس اللہ کے مہمانوں کے روح پرور مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے عازمینِ حج اپنے دلوں میں عشقِ الٰہی، عقیدتِ رسول ﷺ اور بیت اللہ کی زیارت کی تڑپ لیے حرمین شریفین پہنچ رہے ہیں۔ جدہ، مدینہ اور مکہ کے ہوائی اڈوں پر ہر لمحہ ہزاروں حجاج کی آمد جاری ہے۔ مرد عازمین دو سفید بغیر سلے کپڑوں پر مشتمل احرام میں ملبوس نظر آرہے ہیں، جبکہ خواتین سادہ اور باوقار لباس میں عبادت و عاجزی کے جذبات کے ساتھ حجاز مقدس پہنچ رہی ہیں۔ جیسے ہی حجاج سعودی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں، ان کی زبانوں پر تلبیہ جاری ہوجاتا ہے اور ان کی نگاہیں بیت اللہ کے اولین دیدار کے شوق میں بے تاب دکھائی دیتی ہیں۔ اگرچہ مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں جاری کشیدہ حالات اور بعض فضائی راستوں میں رکاوٹوں کے باعث کئی پروازیں متاثر ہوئی ہیں، تاہم سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حجاج کی خدمت اور سہولت کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ وسطی ایشیا میں جنگی صورت حال کے باوجود عازمین حج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک عہدیدار نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ بعض ممالک سے آنے والی پروازوں میں تاخیر ضرور ہوئی، لیکن زمینی سطح پر کیے گئے مؤثر انتظامات نے عازمین کی پریشانیوں کو کم کردیا۔ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی دنیا بھر سے 20 لاکھ سے زائد حجاج کی آمد متوقع ہے۔ مسجد الحرام کے امام اور شاہی امورِ مذہبی کے مشیر ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن حمید نے حج انتظامات کو ’’دنیا کے لیے ایک مثالی ماڈل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب حجاج کی خدمت کو ایک عظیم دینی اور انسانی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مملکت کی پوری حج و عمرہ مشینری اخلاص، خدمت، احترام اور ذمہ داری کے جذبہ کے ساتھ اللہ کے مہمانوں کی خدمت میں مصروف ہے۔ ان کے مطابق حجاج کی آمد سے لے کر واپسی تک ہر مرحلہ میں آسانی، حفاظت اور سکون فراہم کرنا سعودی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ سعودی حکومت نے اس سال بھی جدید ٹیکنالوجی اور اسمارٹ سسٹمز کا وسیع استعمال کیا ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل نگرانی، اسمارٹ کارڈس، ایپلی کیشنس اور ہجوم کو کنٹرول کرنے والے جدید نظام کے ذریعہ حجاج کو بہتر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ وزارتِ حج و عمرہ کے مطابق اس سال گرمی کی شدت، ہجوم اور نقل و حمل کے مسائل سے نمٹنے کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ وزیرِ حج و عمرہ توفیق الربیعہ نے دنیا بھر کے زیحادہ مسلم آبادی والے ممالک، خصوصاً ہندوستان، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی اور افریقی ممالک کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ قبل از وقت منصوبہ بندی اور قواعد کی پابندی سے حج انتظامات مزید مؤثر بنے ہیں۔ انہوں نے حجاج پر زور دیا کہ وہ منظور شدہ ٹرانسپورٹ اور گروپ پلان پر عمل کریں اور غیر منظم انداز میں پیدل سفر سے گریز کریں تاکہ حادثات اور ٹریفک مسائل سے بچا جاسکے۔ سعودی وزارتِ داخلہ نے غیر قانونی حج کرنے والوں کے خلاف سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ حکام کے مطابق بغیر اجازت حج کرنے یا کسی ایسے شخص کے لیے وزٹ ویزا حاصل کرنے پر ایک لاکھ سعودی ریال تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ وزارت نے واضح کیا کہ اگر ایک سے زائد افراد اس خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے تو جرمانہ بھی اسی حساب سے بڑھایا جائے گا۔ اسی طرح بغیر اجازت گاڑیوں کو مشاعرِ مقدسہ میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے سخت نگرانی کی جارہی ہے۔

Source: Social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments