International

چین:98فیصد مسلمان لیکن نماز پر پابندی؟ بلاگر کی ویڈیو وائرل، سنکیانگ میں مذہبی آزادی پر نئی بحث

چین:98فیصد مسلمان لیکن نماز پر پابندی؟ بلاگر کی ویڈیو وائرل، سنکیانگ میں مذہبی آزادی پر نئی بحث

بیجنگ/اسلام آباد (ایجنسیز) چین کے صوبہ سنکیانگ کے تاریخی شہر کاشغر سے ایک پاکستانی ٹریول وی لاگر (سفری مشاہدات نشر کرنے والا یوٹیوبر) کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے، جس کے بعد اویغور مسلمانوں کی مذہبی آزادی، ثقافتی شناخت اور چین کی پالیسیوں پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ وائرل ویڈیو میں وی لاگر کو کاشغر کے قدیم محلوں، روایتی بازاروں اور مسجد نما عمارتوں کے درمیان گھومتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو کے ایک حصہ میں وہ ایک ایسی عمارت کی جانب اشارہ کرتا ہے جو بظاہر مسجد دکھائی دیتی ہے، جبکہ اس کی بالائی منزل پر ایک خاتون رقص کرتی نظر آتی ہے اور نیچے مرکزی دروازے بند دکھائی دیتے ہیں۔ وی لاگر نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’یہ مسجد ہے اور یہاں ایک لڑکی رقص کر رہی ہے۔‘‘ اس منظر نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی اور یہ سوالات اٹھنے لگے کہ آیا سنکیانگ میں مذہبی اور ثقافتی مقامات کو سیاحتی مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اپنی ویڈیو میں وی لاگر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کاشغر کی تقریباً 98 فیصد آبادی مسلمان ہونے کے باوجود عوامی طور پر نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے بقول علاقہ میں مذہبی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں محسوس کی جا سکتی ہیں۔ یہ دعویٰ سامنے آنے کے بعد مختلف ممالک کے سوشل میڈیا حلقوں میں بحث شروع ہوگئی۔ بعض صارفین نے ویڈیو کو ’’آنکھیں کھول دینے والی‘‘ قرار دیا، جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ کاشغر کی تاریخی اور اسلامی شناخت جدید ترقیاتی منصوبوں اور سیاحتی سرگرمیوں کے باعث متاثر ہوئی ہے۔ دوسری جانب چین نے سنکیانگ میں مذہبی آزادی پر عائد تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کی پالیسیاں انتہاپسندی، علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہیں۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد خطے میں استحکام، معاشی ترقی اور عوامی خوشحالی کو یقینی بنانا ہے۔ چینی حکومت سنکیانگ کو ایک اہم ثقافتی اور سیاحتی مرکز کے طور پر بھی فروغ دے رہی ہے اور ایغور موسیقی، رقص، روایتی کھانوں اور تاریخی مقامات کو عالمی سیاحوں کے سامنے پیش کرتی ہے۔ تاہم متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیمیں اور محققین سنکیانگ میں نگرانی کے سخت نظام، اسلامی روایات پر پابندیوں، عوامی عبادات میں رکاوٹوں اور مذہبی اداروں کی حیثیت میں تبدیلیوں پر مسلسل تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان قریبی سفارتی و اقتصادی تعلقات کے تناظر میں بھی اس ویڈیو نے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ بعض پاکستانی صارفین کا کہنا ہے کہ اقتصادی مفادات کے ساتھ ساتھ مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے معاملات پر بھی توجہ دی جانی چاہیے، جبکہ دیگر افراد نے ویڈیو میں پیش کیے گئے دعووں کی آزادانہ تصدیق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments