چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے چاہییں۔ یہ بیان امریکہ کی جانب سے ایرانی پرچم بردار جہاز ’توسکا‘ کو تحویل میں لیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گؤ جیاؤں کن نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ چین کو امریکی افواج کی جانب سے ایرانی جہاز کو ’زبردستی روکے جانے‘ پر ’تشویش‘ ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ اس سے قبل بھی امریکہ کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کو ’غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک‘ قرار دے چکی ہے۔ اندازوں کے مطابق چین ایران کے برآمد کیے جانے والے تیل کا لگ بھگ 90 فیصد خریدتا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کا مقصد چین پر دباؤ ڈالنا ہو سکتا ہے تاکہ وہ ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی