International

برطانیہ کا ایرانی سفیر کو طلب کر کے "اشتعال انگیز" پوسٹس پر احتجاج

برطانیہ کا ایرانی سفیر کو طلب کر کے "اشتعال انگیز" پوسٹس پر احتجاج

برطانوی وزارت خارجہ نے لندن میں متعین ایرانی سفیر کو طلب کرکے ان کی ایک اشتعال انگیز سوشل میڈیا پوسٹ پر سخت احتجاج کیا ہے۔ یہ قدم ان تبصروں کے جواب میں اٹھایا گیا ہے جنہیں سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا اور برطانیہ نے انہیں "ناقابل قبول اور اشتعال انگیز" قرار دیا ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق مشرق وسطیٰ کے امور کے وزیر ہیمش فالکنر نے ایرانی سفیر کو ان بیانات پر برطانوی حکومت کے مکمل ردعمل سے آگاہ کیا اور مطالبہ کیا کہ ایسے تمام مواد کو روکا جائے جسے برطانیہ کے اندر یا بین الاقوامی سطح پر تشدد کی ترغیب کے طور پر دیکھا جا سکتا ہو۔ برطانوی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ قومی سکیورٹی کا تحفظ ان کی "اولین ترجیح" ہے اور وہ ایسی کسی بھی سرگرمی یا پیغام کو برداشت نہیں کریں گے جسے وہ استحکام کے لیے خطرہ تصور کرتے ہوں۔ مزید برآں یہ بھی کہا گیا کہ برطانیہ برطانوی سرزمین پر ایرانی نظام کی مبینہ "جارحانہ سرگرمیوں کو بے نقاب" کرنا جاری رکھے گا اور اس کے ساتھ ساتھ خلیجی خطے میں لندن کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے والے حملوں پر تنقید بھی جاری رہے گی۔ یہ اقدام گذشتہ چند مہینوں کے دوران برطانیہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں سکیورٹی اور میڈیا سرگرمیوں کے حوالے سے الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔ لندن اس سے قبل بھی کئی مواقع پر اپنی سرزمین کے اندر ایرانی اثر و رسوخ کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے اور تہران کے علاقائی کردار بالخصوص خلیجی خطے میں اس کی مداخلت پر بارہا تنقید کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ اس کے اقدامات خارجہ پالیسی کے مطابق ہیں۔ تہران بعض مغربی ممالک پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ سیاسی مقاصد کے لیے ان معاملات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ کشیدگی صرف دوطرفہ اختلافات تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، ایرانی جوہری فائل اور تہران کے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات سے بھی ہے۔ خلیجی اتحادیوں کے خلاف حملوں کا برطانوی تذکرہ خطے میں ایرانی کردار کی حساسیت اور سکیورٹی و سفارتی معاملات کے باہمی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments