International

برطانوی بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی ناکامی، کیئر اسٹارمر کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

برطانوی بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی ناکامی، کیئر اسٹارمر کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

لندن(9 مئی 2026): برطانیہ میں ہونے والے حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے ملک کے سیاسی منظر نامے میں ہلچل مچا دی ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کی قیادت میں لیبر پارٹی کو کئی اہم علاقوں میں غیر متوقع شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد وزیرِ اعظم سے استعفے کے مطالبات زور پکڑنے لگے ہیں۔ انتخابات میں نائجل فراج کی جماعت ‘ریفارم یو کے’ ایک بڑی قوت بن کر ابھری ہے۔ ریفارم یو کے نے شمالی انگلینڈ سمیت کئی اہم علاقوں میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ہارٹل پول میں ریفارم یو کے نے تمام 12 نشستوں پر کلین سویپ کیا، جبکہ ہالٹن میں بھی پارٹی 15 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔ لیبر پارٹی کو اپنے روایتی اور مضبوط قلعوں میں بھی ہزیمت اٹھانی پڑی ہے۔ ویگن میں لیبر پارٹی کو 20 نشستوں کا بھاری نقصان ہوا، جبکہ یہاں ریفارم یو کے نے 23 نشستیں حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔ کئی ایسے علاقے جو دہائیوں سے لیبر پارٹی کے قبضے میں تھے، اب ریفارم یو کے کے کنٹرول میں چلے گئے ہیں۔ پارٹی کی اس ناقص کارکردگی پر لیبر پارٹی کے اندر سے بھی تنقید شروع ہو گئی ہے۔ لیبر رہنما جوناتھن بریش نے نتائج پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر سے فوری طور پر وزارتِ عظمیٰ سے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب، اسٹاک پورٹ کونسل میں لبرل ڈیموکریٹس اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہے اور کونسل پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج مستقبل کی برطانوی سیاست اور لیبر پارٹی کی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments