ذرائع کے مطابق اسرائیل نے بحیرۂ کیسپیئن میں ایک بحری ہدف پر حملہ کیا، جس کا مقصد ایران کو جنگ کے دوران روسی حمایت فراہم کرنے والے راستوں کو نقصان پہنچانا تھا۔ اس میں وہ سپلائی لائنز نشانہ بنائی گئیں جو ہتھیار، ڈرونز اور دیگر عسکری سامان لے کر جاتی ہیں، جیسا کہ امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا۔ یہ حملہ پچھلے ہفتے ہوا،اور یہ اسرائیل کا بحر قزوین میں پہلا حملہ تھا۔ یہ سمندر دنیا کا سب سے بڑا بند سمندر ہے اور روسی اور ایرانی بندرگاہوں کو جوڑتا ہے، جن کے درمیان فاصلہ تقریباً 600 میل ہے۔ یہی راستہ ہتھیار اور دیگر سامان جیسے گندم اور تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے اور امریکی بحری کارروائیوں کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ راستہ خاص طور پر شاہد ڈرونز کی ترسیل کے لیے اہم ہو گیا ہے، جو روس اور ایران میں تیار کیے جاتے ہیں۔ ماسکو نے ان کا استعمال یوکرین کے شہروں پر حملوں کے لیے کیا، جبکہ تہران نے انہیں خلیج میں امریکی اڈوں اور توانائی کے بنیادی مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع