International

ایرانی کلسٹر میزائل اسرائیلی دفاع کو توڑنے میں کیسے کامیاب ہوئے؟

ایرانی کلسٹر میزائل اسرائیلی دفاع کو توڑنے میں کیسے کامیاب ہوئے؟

اٹھائی فروری سنہ 2026ء کو چھڑنے والی جنگ کے آغاز سے اب تک ایران نے اسرائیل کی جانب کلسٹر وار ہیڈز کے حامل درجنوں میزائل داغے ہیں۔ اگرچہ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام نے ان میں سے بیشتر کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے تاہم کچھ میزائل اس دفاعی حصار کو توڑنے میں کامیاب رہے جو اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ تاہم اسرائیلی دفاعی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے واقعات کا امکان رہتا ہے کیونکہ دنیا میں کوئی بھی دفاعی نظام سو فیصد مکمل یا مثالی نہیں ہوتا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے میزائلوں کو ان کے حصوں میں تقسیم ہونے اور متعدد چھوٹے بموں میں تبدیل ہونے سے قبل ہی روکنا ضروری ہوتا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تمام میزائل کلسٹر وار ہیڈز کے حامل نہیں ہوتے۔ تاہم ایران کے بیشتر بیلسٹک میزائل مثلاً فاتح 110، ذوالفقار، عماد، قدر، سجيل اور خرمشہر ضرورت کے مطابق روایتی واحد وار ہیڈ یا کلسٹر وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق کلسٹر وار ہیڈ میں عام طور پر درجنوں چھوٹے بم ہوتے ہیں جو بغیر کسی رہنمائی کے گرتے ہیں اور مختلف علاقوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ یہ خصوصیت انہیں وسیع پیمانے پر اثر انداز ہونے والا اور غیر امتیازی ہتھیار بناتی ہے خاص طور پر گنجان آباد شہری علاقوں میں ان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک میزائل میں 20 سے 30 بم ہو سکتے ہیں جبکہ خرمشہر اور خیبر جیسے میزائلوں میں یہ تعداد 70 تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ غیر مسلح تخفیف اسلحہ سے متعلق ویب سائٹ کے مطابق میزائل کا سرا یا وار ہیڈ ہدف کے قریب پہنچ کر یا ایک خاص بلندی پر کھل جاتا ہے جس سے چھوٹے بم ایک وسیع علاقے میں بکھر جاتے ہیں۔ اس کے بعد ہر چھوٹا بم علیحدہ طور پر پھٹتا ہے جس سے بڑے رقبے پر پھیلے ہوئے اہداف کو زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ گذشتہ ہفتے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے بتایا تھا کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر داغے جانے والے میزائلوں میں سے تقریباً نصف کلسٹر گولہ بارود پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی میزائل ڈیفنس سسٹم آنے والے بیلسٹک میزائلوں کو روکنے میں بہترین کارکردگی دکھا رہا ہے لیکن اگر میزائل کے تباہ ہونے سے پہلے ہی اس کے اندرونی کلسٹر بم علیحدہ ہو جائیں تو پھر زیادہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آئرن ڈوم سسٹم کم فاصلے کے چھوٹے میزائلوں کو کم بلندی پر روکنے کے لیے بنایا گیا ہے لیکن یہ کلسٹر بموں کے درجنوں چھوٹے حصوں میں بکھر جانے کے بعد انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ بھاری بارود کے برعکس یہ چھوٹے بم جن کا وزن عام طور پر 3 کلو گرام سے کم ہوتا ہے عمارتوں یا فوجی ٹھکانوں کے بجائے گاڑیوں، دکانوں اور پناہ گاہوں سے باہر موجود افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ دنیا کے 120 سے زائد ممالک نے کلسٹر بموں کے استعمال پر پابندی کے عالمی معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں لیکن اسرائیل، امریکہ اور ایران ان ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے اس معاہدے میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ یہ ہتھیار دہائیوں سے دنیا بھر کے تنازعات میں استعمال ہوتے رہے ہیں بشمول سنہ 2006ء میں لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے دوران اسرائیل کی جانب سے ان کا استعمال کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کا تخمینہ ہے کہ ایران کے پاس تقریباً 2500 بیلسٹک میزائل موجود ہیں جبکہ دیگر اندازوں کے مطابق موجودہ جنگ سے قبل ایران کے پاس ان میزائلوں کی تعداد 3000 سے 6000 کے درمیان تھی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments