International

ایرانی حکمت عملی کے پیچھے روس کے پوشیدہ ہاتھ کا امکان مسترد نہیں کرتے: برطانیہ

ایرانی حکمت عملی کے پیچھے روس کے پوشیدہ ہاتھ کا امکان مسترد نہیں کرتے: برطانیہ

برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے 1000 فوجی مشرق وسطیٰ میں تعینات ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک اضافی تعاون کے طریقے متعین کرنے کے لیے خطے کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے خطے میں حملوں کے فریم ورک کے اندر بعض ایرانی حکمت عملیوں کے پیچھے روس کے پوشیدہ ہاتھ کی موجودگی کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ہیلی نے سعودی عرب کے دورے کے اگلے روز اخبار ’’الشرق الاوسط‘‘ کو بتایا کہ خطے میں کام کرنے والے برطانوی طیاروں کی تعداد 15 سالوں میں سب سے زیادہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے بحرین، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات اور قبرص کے اوپر فضائی دفاعی کارروائیاں کرنے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے قبرص میں فضائی دفاعی افواج کے 500 اضافی اہلکاروں کی تعیناتی اور مشرقی بحیرہ روم میں تباہ کن بحری جہاز (ایچ ایم ایس ڈریگن) کی موجودگی کا بھی بتایا اور وضاحت کی کہ یہ بحری جہاز اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ کثیر جہتی فضائی دفاعی نظام میں مکمل طور پر شامل ہو چکا ہے۔ مزید برآں ہیلی نے خطے میں حملوں کے دوران بعض ایرانی حکمت عملیوں کے پیچھے روس کے پوشیدہ ہاتھ کے امکان کو مسترد نہیں کیا اور کہا کہ برطانوی تخمینے بتاتے ہیں کہ روس نے، امریکی اور اسرائیلی حملوں سے پہلے ہی، ایران کو مدد فراہم کی تھی جس میں انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور تربیت شامل ہے۔ تربیت میں ڈرون ٹیکنالوجی کا شعبہ اور الیکٹرانک وارفیئر کے شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی انٹیلی جنس اشارہ دیتی ہے کہ یہ تعاون اب تک جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ روسی صدر پوتین کا 'پوشیدہ ہاتھ' بعض ایرانی حکمت عملیوں اور شاید اس کی بعض صلاحیتوں کے پیچھے بھی ہو۔ ہم جارحیت کا ایک ایسا محور دیکھ رہے ہیں جس میں روس اور ایران شامل ہیں۔ یہ دو ایسے ممالک ہیں جو اپنے پڑوسیوں کو دھمکیاں دیتے ہیں اور ہم سب کے لیے ایک وسیع تر خطرہ ہیں۔ تہران کی جانب سے چند روز قبل بحر ہند میں واقع جزیرے ڈیگو گارسیا کے اڈے کو دو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران کی یورپی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کے بارے میں، ہیلی نے ان خدشات کے جواب میں کہا کہ ایسا کوئی تخمینہ نہیں ہے جو یہ بتاتا ہو کہ ایران میزائلوں کے ذریعے یورپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو برطانیہ کے پاس اپنی سرزمین اور اپنے اتحادیوں کی حفاظت کے لیے ضروری وسائل اور اتحاد موجود ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ برطانیہ اپنا دفاع کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے تیار ہے۔ خطے میں پھیلے ہوئے اڈوں پر افواج کی حفاظت کے اقدامات اعلیٰ ترین سطح پر ہیں۔ واضح رہے مشرق وسطیٰ کا خطہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے تناظر میں 2003 کے عراق حملے کے بعد سب سے بڑی فوجی نقل و حرکت دیکھ رہا ہے۔ حالیہ جنگ کا آغاز 28 فروری 2026 کو ہوا اور اس کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت متعدد ایرانی رہنما جاں بحق ہو چکے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments